پاکستانی حکومت ملت جعفریہ کے مطالبات پر توجہ دے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241513-پاکستانی_حکومت_ملت_جعفریہ_کے_مطالبات_پر_توجہ_دے
پاکستان میں ملت جعفریہ کے دسیوں ہزار افراد نے احتجاجی مظاہرہ کرکے حکومت سے اپنے مطالبات کا سنجیدگی سے نوٹس لئےجانے کا مطالبہ کیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۳:۵۳ Asia/Tehran
  • پاکستانی حکومت ملت جعفریہ کے مطالبات پر توجہ دے

پاکستان میں ملت جعفریہ کے دسیوں ہزار افراد نے احتجاجی مظاہرہ کرکے حکومت سے اپنے مطالبات کا سنجیدگی سے نوٹس لئےجانے کا مطالبہ کیا۔

 

پاکستان کی ملت جعفریہ کے شہید قائد علامہ سیدعارف حسین حسینی کی برسی کے موقع پر اھل تشیع کے دسیوں ہزار افراد نے قومی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج اجتماع کرکے ان کے خلاف دہشتگردانہ حملے روکے جانے اور ان کے مطالبات پورے کئے جانے پر تاکید کی۔

علامہ سید عارف حسین حسینی پانچ اگست انیس سو اٹھاسی کو سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں شہر پشاور میں ایک دہشتگرد کی فائرنگ میں شہید ہوئے تھے۔ اس وقت سے لے کر اب تک حکومت پاکستان ملت جعفریہ کو تحفظ فراہم کرنے کے فقط وعدے کرتے آرہی ہے۔ پاکستان میں ملت جعفریہ کو تحفظ تو فراہم نہیں ہوا بلکہ انہیں ہر جگہ پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری شیعہ مسلمانوں کے خلاف دہشتگردانہ حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر تھے اوروہ  اسی دنوں سے زائد بھوک ہڑتال سے پاکستان اور علاقائی حلقوں کو پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی مشکلات کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور شیعہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پاکستانی حکومت اور فوج پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری  کو بھوک ہڑتال کی وجہ سے شدید کمزوری کی بنا پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں سے کہا کہ وہ مراجع تقلید اور بزرگ شیعہ شخصیتوں کے کہنے پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کررہے ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ جب تک حکومت پاکستان ملت جعفریہ کے مطالبات منظور نہیں کرتی ہے اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین کا احتجاجی کیمپ اور دھرنا جاری رہے گا۔ انہوں نے شیعہ مسلمانوں کے تعلق سے حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں پر تنقید کی اور شیعہ مسلمانوں پر دہشتگردانہ حملوں اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے صوبہ پنجاب کی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر شیعہ مسلمانوں کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو لاھور میں بڑے مظاہرے کئے جائیں گے اور وزیر اعلی ہاوس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ایسے عالم میں احتجاج جاری ہے کہ پاکستان میں یہ سب کو معلوم ہے کہ شیعہ مسلمانوں پر کونسے دہشتگرد اور فرقہ پرست گروہ حملے کرتے ہیں۔ پاکستان میں لشکر جھنگوی و سپاہ صحابہ اور تحریک طالبان پاکستان ایسےفرقہ  پرست اور دہشتگرد گروہ ہیں جنہیں ملت جعفریہ کو کمزور کرنے کےلئے شیعہ مسلمانوں کا قتل اور ٹارگٹ کلنگ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ادھر حکومت پاکستان، فوج اور انٹلجنس بھی دہشتگردوں کامقابلہ کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو تحفظ عطا کرنا بالخصوص  پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے دہشتگردی کے مقدموں کا تیزی سے فیصلہ کرنے کے بجائے اس میں تاخیر سے کام لینے سے دہشتگرد مزید گستاخ  ہوجاتے ہیں اور اپنے جرائم جاری رکھتے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال کے موقع پر پاکستان کی شیعہ اور اھل سنت شخصیتوں نے ان کی بھوک ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور فوج سے مطالبہ کیا تھا کہ دہشتگردوں سے مقالبہ کرنے پرمبنی شیعہ مسلمانوں کے مطالبات پر بھرپور توجہ دی جائے۔ دہشتگردوں کا ھدف پاکستان میں شیعہ اورسنی مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ہے جبکہ یہ لوگ صدیوں سے پرامن زندگی گذارتے آرہے ہیں اور اپنے ملک کی ترقی کے لئے کوشش کررہے ہیں۔