مظلوم عوام کے خلاف آل خلیفہ کے جرائم جاری
بحرین میں آل خلیفہ کی حکومت نے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں پردباؤ بڑھا دیا ہے۔ آل خلیفہ کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جن افراد کی شہریت ختم کردی گئی ہے وہ بیرونی شہری شمار ہونگے اور ان کے شہری حقوق کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔
آل خلیفہ کی پالیسیوں کی مخالفت کی بنا پرسیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی شہریت سلب کرنے کے آل خلیفہ کی حکومت کے اقدام پر عالمی برادری کےوسیع احتجاج کے باوجود بحرین کے وزیر داخلہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے کہا ہے کہ ہر وہ شخص جس کی شہریت بحرینی حکومت نے سلب کرلی ہے وہ بیرونی عنصر شمار ہوگااور اسے ایک ماہ کے اندر اپنی صورتحال کا تعین کرنا ہوگا۔ آل خلیفہ کے حکام نے عوامی تحریک شروع ہونے کےبعد حالیہ چند برسوں میں دسیوں سیاسی، مذہبی اور شہری رہنماوں کو دہشتگرد قراردے کر اور ان پر باہر سے وابستہ نیز تشدد پسند ہونے کے الزامات لگا کر ان کی شہریت سلب کرلی ہے۔ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔ بحرین کے اھل تشیع کے ممتاز قائد آیت اللہ شیخ عیسی قاسم بحرین کے سب سے مشہور شہری ہیں جن کی شہریت آل خلیفہ نے بے بنیاد بہانوں سے سلب کی ہے۔ جن افراد کو شہریت سے محروم کیا گیا ہے ان کوبحرین کے وزیر داخلہ کے انتباہ کے ساتھ ساتھ آل خلیفہ کی سکیورٹی فورسز نے تین اور مذہبی رہنماؤں شیخ عیسی مومن، شیخ فاضل الزاکی اور شیخ علی ناجی اور پارلیمنٹ کے سابق نمائندے علی العشیری کو اشتعال انگیزی اور شاہی حکومت کی مخالفت کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ گذشتہ ہفتے بھی تین علماء کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم بحرینی عوام نے گذشتہ روز اور گذشتہ شب منامہ کے مغربی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کرکے آل خلیفہ کی نسل پرستانہ پالیسیوں بالخصوص گرفتاریوں میں تیزی اور ملک کے اصلی باشندوں کو شہریت سے محروم کرنے کی پالیسیوں کی مذمت کی اور زور دے کر کہا کہ وہ آل خلیفہ کے مظالم کے سامنے تسلیم نہیں ہونگے۔ ان حالات میں آل خلیفہ کی حکومت شہریوں کی سماجی آزادیاں سلب کرنے کے لئے مزید قدم اٹھا رہی ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ ٹیلی مواصلات سے وابستہ انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ایک جیسے سسٹم خریدنے ہونگے تا کہ انٹرنیٹ سروسز کو آسانی سے بند کیا جاسکے۔ نئے سسٹم سے آل خلیفہ کی حکومت کو یہ آسانی ہوجاتی ہے کہ وہ انٹرنیٹ سروسز اور سائٹوں کو براہ راست طور پر بند کرسکتی ہے۔آل خلیفہ کی حکومت نے دوہزار ایک سے بحرینی قوم کی پرامن تحریک کے شروع ہونے کے بعد حکومت کے مخالفین اور انسانی حقوق کی تنطیموں کی سیکڑوں ویب سائیٹیں بند کی ہیں۔ بحرین کی شاہی حکومت مختلف ہتھکنڈوں اور حربوں سے عوامی تحریک کو کنٹرول کرکے مخالفین کو سیاسی اور سماجی میدانوں سے نکالنا چاہتی ہے۔ بحرین کا اقتدار غیر قانونی طریقے سے آل خلیفہ کے ہاتھوں میں ہے اور سارے حساس اور بڑے منصب بادشاہ سے قریب افراد کو دئے گئے ہیں جن میں وزیر اعظم کا عھدہ بھی آتا ہے۔ واضح رہے بحرین میں انیس سو ستر میں آزادی ملنے کے بعد اب تک ایک ہی وزیر اعظم چلا آرہا ہے اور وہ بحرین کے سابق بادشاہ کے بھائی اور موجودہ بادشاہ کے چچا خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔