کویت میں یمن مذاکرات ناکام
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241519-کویت_میں_یمن_مذاکرات_ناکام
کویت میں یمن کے امن مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد سعودی عرب کے جارح طیاروں نے متعدد مرتبہ یمن کے مختلف علاقوں پر بمباری کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۵ Asia/Tehran
  • کویت میں یمن مذاکرات ناکام

کویت میں یمن کے امن مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد سعودی عرب کے جارح طیاروں نے متعدد مرتبہ یمن کے مختلف علاقوں پر بمباری کی ہے۔

 

کویت میں یمن کے مستعفی صدر عبدربہ منصور ہادی کے وفد اور انصاراللہ کی قومی کمیٹی کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد منصور ہادی کے نمائندے نے یمن کے مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کرنے پر تاکید کی۔  یمنی عوام نے اپنے ملک کی بنیادی تنصیبات بالخصوص مساجد پر سعودی عرب کی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے  سعودی عرب کے سامنے مزاحمت جاری رکھنے پر زور دیا۔ انصاراللہ کی قومی کمیٹی، عوامی کانگریس پارٹی اور ان کے ہمنوا گروپوں نے اقوام متحدہ کو ایک خط بھیج کر امن مذاکرات میں اس تنظیم کی غلطیوں بالخصوص کویت مذاکرات میں غلطیوں کا تدارک کرنے کا مطالبہ کیا۔ انصاراللہ کی کمیٹی نے اس خط میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کو جانبدارانہ موقف  اور یکطرفہ راہ حل سے پرہیز کرنا چاہیے۔ انصاراللہ نے اقوام متحدہ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کے بہانے وقت ضایع نہ کرے اور سعودی اتحاد کے ہاتھوں یمن کے بے گناہ عوام کے قتل عام پر پردہ نہ ڈالے۔ انصاراللہ کی کمیٹی نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ نئے مذاکرات کی بنیاد واضح طریقے سے ہمہ گیر راہ حل ہونا چاہیے۔ کویت میں یمن امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد تحریک انصاراللہ، کانگریس پارٹی اور ان کے اتحادیوں نے چھے اگست کو صنعا میں ملک کا انتظام چلانے کے لئے اعلی سیاسی کونسل کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ یمن کی اعلی سیاسی کونسل میں دس رکن ہیں پانچ رکن انصاراللہ کے ہیں اور پانچ رکن عوامی کانگریس پارٹی کے ہیں، صالح العماد کو اس کونسل کا سربراہ اور قاسم البوزہ کو نائب سربراہ معین کیا گیا ہے۔

کویت میں یمن کے بحران کو حل کرنے کی غرض سے مذاکرات اکیس اپریل کو شروع ہوئے تھے اور چھے اگست کو یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسماعیل ولد شیخ احمد نے ان کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ ان حالات میں انقلاب یمن کی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا کہ امریکہ یمن میں بحران جاری رکھنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یمن کے بحران کی راہ حل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور اس یمن کے عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اعلی سیاسی کونسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کونسل کو قومی کونسل میں تبدیل ہونا چاہیے اور اس میں تمام پارٹیوں کی شراکت ضروری ہے۔ الحوثی نے کہا کہ جو ممالک سعودی عرب کے ہمراہ یمن پر جارحیت میں ملوث ہیں وہ یمن کی بنیادی تنصیبات کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے مشیر خصوصی امیر عبداللہیان نے کہا ہےکہ سعودی عرب اب یمن کے دلدل میں پھنس گیا ہے اور ناکارآمد فوجی طریقوں کو جاری رکھ کر اس دلدل سے نکلنے کی توانائی نہیں رکھتا اور نہ اس بات کی  اجازت دیتا ہے کہ اقوام متحدہ یمن کے عوام کے ابتدائی حقوق کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے، البتہ امریکہ بھی خاموش ہے اور اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے بحران کو صرف اور صرف سیاسی طریقوں سےحل کیا جاسکتا ہے اور اس ملک کا مستقبل تمام سیاسی گروہوں ، پارٹیوں اور عوام سے متعلق ہے۔