پاکستان: کوئٹہ میں دہشت گردانہ حملہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے سول اسپتال میں ایک خودکش حملے میں ستر سے زائد افراد جاں بحق اور دسیوں زخمی ہو گئے ہیں۔ مرنے والوں میں ایک بڑی تعداد وکلا کی ہے جبکہ نجی ٹی وی چینلوں کے دو نامہ نگار بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔ بہت سے زخمیوں کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔
سول اسپتال کوئٹہ میں ایمرجنسی کے سامنے خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو اس وقت اڑایا جب وکلا اور میڈیا کی بڑی تعداد بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال کاسی پر ہونے والے قاتلانہ حملے اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد اسپتال میں موجود تھی ۔ دھماکا اس قدر خوفناک تھا کہ ہر طرف بھگدڑ اور چیخ و پکار مچ گئی ۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ ہے۔
پاکستانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فوج تکفیریوں کے مکمل خاتمے اور ملک میں امن کی مکمل بحالی تک دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے گی۔
کوئٹہ میں دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور کمانڈر سدرن کمانڈ نے شرکت کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو شکست فاش ہوئی۔ اب دہشتگردوں کی توجہ بلوچستان کی طرف ہو گئی ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والے حملے کا مقصد بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کو خراب کرنا تھا۔ حملہ خصوصی طور پر اقتصادی راہداری کے خلاف ہے۔ صورتحال سنبھالنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے بلوچستان میں خصوصی کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ انٹیلی جنس ادارے ملک بھر میں دہشتگردی میں ملوث کسی بھی شخص کو نشانہ بنا سکیں گے۔ آرمی چیف نے انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی کہ وہ کوئٹہ واقعے سے جڑے کسی بھی فرد کو ٹارگٹ کرنے کیلئے ملک میں جہاں بھی جانا پڑے جائیں۔
دہشت گردوں کی نظر میں سول اسپتال میں وکلا کے اجتماع میں خودکش حملہ میڈیا اور عوام کی توجہ کا باعث بن سکتا ہے خصوصا اس لیے کہ اس دہشت گردانہ حملے میں ایک سو سے زائد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہ پاکستان سمیت تمام ملکوں میں اس طرح دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں کہ ان میں زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو اور اس سے لوگوں میں خوف و دہشت پیدا ہو۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ رائے عامہ میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کنٹرول کمزور ظاہر ہو۔
پاکستان کا شہر کوئٹہ ان شہروں میں شامل ہے کہ جو خاص سیاسی، سیکورٹی اور اقتصادی حساسیت کی بنا پر دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے دہشت گردوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
کوئٹہ میں ہونے والے اس خودکش حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے وفاقی اور صوبائی حکومت کے دعووں کے باوجود دہشت گرد اس ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں۔
یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی، پاکستان میں انتہاپسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا ایک سبب ہے اور کابل اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی اختلافات، دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں ان کے درمیان مشترکہ تعاون کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اوریہ دہشت گردی اس وقت علاقے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے۔