پاکستان میں دہشتگردی اور نئے نئے چیلنج
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241702-پاکستان_میں_دہشتگردی_اور_نئے_نئے_چیلنج
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے ایک اسپتال میں دہشتگردانہ حملے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ نے پاکستان کی تمام انٹلیجنس اور سکیورٹی سروسز کو تیزی سے پورے پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن شروع کرنے کی ھدایات دی ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۹, ۲۰۱۶ ۱۲:۵۰ Asia/Tehran
  • پاکستان میں دہشتگردی اور نئے نئے چیلنج

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے ایک اسپتال میں دہشتگردانہ حملے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ نے پاکستان کی تمام انٹلیجنس اور سکیورٹی سروسز کو تیزی سے پورے پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن شروع کرنے کی ھدایات دی ہیں۔

 

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ میں ایک اعلی سطحی سکیورٹی نشست میں ان ھدایات کا اعلان کیا ہے۔اس نشست میں  پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلی ثناء اللہ زھری، بلوچستان میں فوج کے کور کمانڈر عامر ریاض اور صوبے کے دیگر مقامی حکام نے شرکت کی۔ پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ کوئٹہ کے اسپتال میں دہشتگردوں کے حملے کا ھدف اس صوبے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں جاری فوج کے آپریشن ضرب عضب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں شکست ہوئی ہے اسی وجہ سے وہ بلوچستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرکے حکومت پاکستان سے انتقام لینا چاہتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستانی حکومت کے سامنے دہشتگردوں نے بے پناہ مسائل کھڑے کررکھے ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کے معرض وجود میں آنے نیز شہروں میں حملے ہونے کے بعد پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہت زیادہ خراب ہوگئی ہے۔ اب اگر کوئٹہ کے اسپتال کے حملے کی ذمہ داری تکفیری دہشتگرد گروہ داعش یا اس کے ہمنوا گروہ لے لیتے ہیں تو پاکستان کی سکیورٹی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ پاکستانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ہے اور اگر داعش کی جانب سے کوئٹہ کے اسپتال پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی خبر صحیح ہوتو کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی چیلنجوں اور مشکلات میں دوچندان اصافہ ہوجائے گا۔ دہشتگردوں کے خلاف فوری طور پر کارروائیاں شروع کرنے کے لئے جنرل راحیل شریف کا حکم ظاہر کرتا ہے کہ انہیں بھی پاکستان میں دہشتگردوں کی کارروائیوں پر شدید تشویش لاحق ہے۔ اب تک لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسے دہشتگرد گروہ پاکستان ہی میں سرگرم عمل تھے لیکن اب نئے نئے دہشتگرد گروہوں کے معرض وجود میں آنے کے بعد پاکستان کی سکیورٹی مشینری کے سامنے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کےتعلق سے شدید مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی مبصرین کے مطابق اگر پاکستان کی حکومت سکیورٹی ادارے اور عدلیہ ٹھوس طریقے سے دہشتگردوں سے نمٹتی تو آج ان دہشتگرد گروہوں کی تعداد اتنی زیادہ نہ ہوتی اور ان میں پاکستان کی قومی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے اور عوام کا قتل عام کرنے کی توانائی نہ ہوتی۔

حالیہ مہینوں میں دہشتگردوں کے خلاف فوج کے رویے کے تعلق سے وسیع پیمانے پر احتجاج ہوا ہے۔ بعض سرکاری حلقوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف دوہرے رویے اپنا رہی ہے۔ اگرچہ حکومت اسلام آباد ان الزامات کو رد کرتی ہے لیکن عوام مسلسل یہ سوال پیش کررہے ہیں کہ پاکستان کی فوج نے خود کو اپنے ایٹمی حریف سے مقابلے کے لئے آمادہ کررکھا ہے لھذا اس میں دہشتگرد گروہوں کو نابود کرنے کی توانائی کیوں نہیں ہے؟ اس سوال سے پاکستانی فوج کے سربراہ کے سامنے چیلنج کھڑے ہوگئے ہیں کیونکہ پاکستانی عوام اپنی فوج کی بہت عزت کرتی ہے اسی وجہ سے اس کے سامنے دہشتگردوں کا طاقت کا مظاہرہ کرنا یقینا عوام اور فوج کے کمانڈروں کے لئے قابل برداشت نہ ہوگا۔ بہر صورت پاکستان کے فوجی اور سیاسی حکام نے دہشتگردانہ حملوں کی مذمت اور دہشتگردی سے مقابلہ کرنے پر تاکید کی ہے لیکن اگر اسی طرح دہشتگردانہ حملے جاری رہے تو نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوجائے گا بلکہ فوج اور حکمران پارٹی کی ساکھ بھی بگڑ جائے گی۔