ایران ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کا خواہاں
اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ہمہ گیر تعلقات کو فروغ دینے کو بنیادی ترجیح حاصل ہے۔
اس بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعاون اور تعلقات بڑھانے کےلئے ہر نئے نظریے اور جدت عمل کا خیرمقدم کرتا ہے۔ باکو میں پیر کے دن اسلامی جمہوریہ ایران، جمہوریہ آذربائجان اور روس کا سربراہی اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس سے آپسی تعلقات کا جائزہ لینے اور مشترکہ مفادات کے آگے بڑھانے کے لئے اس نظریے کو پیش کرنے کاموقع ملا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی سیاسی کارکردگی اور علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں میں نہ صرف نئے نظریات اور مثبت اور قابل قدر جدت عمل کا خیر مقدم کرتا ہے بلکہ خود بھی قوموں کے حقوق کے احترام کے اصولوں کے مطابق امن و سکیورٹی کو مضبوط بنانے اور پرامن بقائے باہمی کے لئے طریقہ ہاے کار اور تجویزیں پیش کرتے رہتا ہے۔ اس طرح کی ایک تجویز کا نمونہ دنیا کو تشدد سے پاک کرنے اور تشدد پسندی نیز انتہا پسندی کے مقابلے کے لئے تعاون اور تمام ثقافتوں اور دینی اعتقادات اور انسانی اقدار کا احترام کرنے پر مبنی اقوام متحدہ کو دی جانے والی تجویز ہے۔ علاقے اور دنیا کے آج کے حالات میں باکو میں تین ملکوں کا سربراہی اجلاس دوچندان اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس نشست سے خطاب میں کہا کہ آج کے حالات میں کوئی بھی ملک اکیلے نہ چیلنجوں سے مقابلہ کرسکتا ہے اور نہ ہی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کے عوام کے لئے قابل قبول حد تک امن و رفاہ اور ترقی کے لئے ضروری ہے کہ مختلف ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ یہ عنصر دراصل مختلف ملکوں بالخصوص ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقا ت میں فروغ لانے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے، چنانچہ اس اعتبار سے اگر باکو اجلاس کو دیکھا جائے تو ہمیں متعدد اہم معیارات ملیں گے جو علاقے کے تمام ملکوں کی تقدیر سے جڑے ہوئے ہیں۔ پہلا معیار یہ ہے کہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ شراکت اور چند جانبہ مذاکرات کے ذریعے بہت سے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ دوسرا معیار یہ ہے کہ دینی اور ثقافتی اشتراکات مختلف ملکوں کے درمیان تعلقات میں فروغ لانے کی ممکنہ توانائیاں فراہم کرتے ہیں مثال کے طور پر ایران اور جمہوریہ آذربائجان کے درمیان ریلوے لائین بچھانے اور شمال ۔جنوب کوریڈور کی تکمیل کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ تیسرا معیار سکیورٹی تعاون کا میدان ہے۔
باکو نشست ایسے موقع پر منعقد ہوئی ہے کہ مذہب اور آئیڈیا لوجی کے نام پر دہشتگردی اور انتہا پسندی نیز منظم جرائم جیسے منشیات کی اسمگلنگ اور علیحدگی پسندی جیسے چیلنج اور مشکلات نے علاقے کو متاثرکر رکھاہے۔ حالیہ برسوں میں علاقے اور دنیا میں حاصل ہونے والے تجربوں سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ کوئی بھی ملک اکیلے یا یکطرفہ اجارہ داری کے ذریعے ان بحرانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے عملا یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ روس اور دیگر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ باہمی تعلقات میں اور سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مثبت اور تعمیری تبدیلیوں کا خواہاں رہا ہے۔ جہاں پر اجتماعی شراکت کی ضرورت تھی وہاں بھی ایران نے ثابت کیا ہے وہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔ ایٹمی معاملے کو حل کرنے کے سلسلے میں گذشتہ چند برسوں میں اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے درمیان قریبی تعاون اور صلاح و مشورے نیز شام کے بحران کے تعلق سے دونوں ملکوں کا مثبت اور تعمیری تعاون علاقے میں تعاون کا ایک مثالی نمونہ ہے جو تمام مشترکہ میدانوں حتی تین طرفہ تعاون کے لئے بھی نمونہ عمل بن سکتا ہے۔
ایران، جمہوریہ آذربائجان اور روس کا تعاون اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے بقول سہ فریقی فارمیٹ میں نہ صرف سیاسی اقتصادی اور ثقافتی لحاظ سے ان تین ملکوں کی توانائیوں اور صلاحیتوں کو مضبوط بناسکتا ہے بلکہ یہ تینوں ممالک ایک دوسرے سے اتحاد اور ایک دوسرے کی مدد کرکے علاقے میں موجود چیلنجوں سے مقابلہ کرنے کے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ واضح سی بات ہے ایسی تدابیر کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہوسکتیں بلکہ ان کا مقصد محض علاقائی سطح پر ترقی اور تعاون کرنا ہے۔