یمن: سعودی اتحاد کی جارحیت جاری
یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد شیخ احمد نے یمن کے بحران کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے
۔ انہوں نے پیر کو جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل ایاد مدنی سے ملاقات میں امید ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں فریقین کسی سمجھوتے تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں نے بحران یمن کو مذاکرات سے ختم کرنے کے لئے جن اصولوں پر اتفاق ہوا ہے اس پر قائم رہنے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ولد شیخ نے کہا ہے یمن کا بحران فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا اور یمن میں جنگ اور جھڑپیں ختم ہونی چاہیں۔ ایاد مدنی نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم بحران یمن کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے حق میں ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ یمن کے امن مذاکرات کے ناکام ہوجانے کے بعد جس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے سعودی عرب کی سرکردگی میں جارح اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ اب یمن میں کسی طرح کی جنگ بندی عمل میں نہیں آئے گی۔ احمد عسیری نے پیر کے دن کہا کہ یمن میں اب کوئی جنگ بندی عمل میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے اتحاد کو کسی بھی انسان دوستانہ تنظیم کی خوشنودی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاشک یمن میں آل سعود کے جرائم پر اقوام متحدہ کے کمزور موقف کی بنا پر آل سعود کی حکومت مزید گستاخ ہوگئی ہے اور یمن کے عوام کو زیادہ سے زیادہ اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنارہی ہے۔ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے حالیہ دنوں میں بھی یمن کے مختلف علاقوں پر حملے تیز کردئے ہیں اور ان حملوں میں دسیوں یمنی بچے اور خواتین شہید اور زخمی ہوئی ہیں۔ واضح رہے کویت میں مستعفی صدر عبدربہ منصور ہادی اور یمن کی قومی کونسل کے درمیان امن مذاکرات سعودی عرب کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ناکام ہوگئے۔ مغربی ملکوں کی حمایت سے یمن میں سعودی عرب کے جرائم میں تیزی آنے کے بعد برطانیہ میں انسانی حقوق کے سرگرم رہنما سعید شہابی نے کہا ہےکہ یمن میں سعودی عرب کے جنگی جرائم کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ سعید شہابی نے کہا کہ برطانیہ سعودی عرب کو انٹلیجنس فراہم کرتا ہے اور اسے گائیڈڈ بم اور میزائل دے رہا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ ان پیشرفتہ ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی مہارت سے بھی آگاہ کررہا ہے۔ سعید شہابی نے کہا کہ اس بات کے کافی ثبوت و شواہد ہیں کہ یمن کے عام شہریوں کے خلاف امریکی اور برطانوی ہتھیار استعمال ہورہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ برطانوی حکومت ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات کے نتائج تسلیم کرلے گی اور عالمی برادری کو بھی یمن میں سعودی جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے لئے ترغیب دلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایاجانا چاہیے لیکن جب تک مغرب کو یمن کی جنگ سے فائدہ ہورہا ہے یمن میں بے گناہ عورتیں اور بچے مسلسل رنج و الم کا شکار رہیں گے۔ واضح رہے یمن پر سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں میں ہزاروں افراد جاں بحق اور دسیوں ہزار آوارہ وطن ہوئے ہیں۔ ادھر ایک سیاسی مبصر نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے اھداف تک پہنچنے کے لئے بچوں کو بھی نشانہ بنارہا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی واضح الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن سعودی عرب کی حکومت مختلف حربوں سے خود کو عالمی برادری کے ردعمل سے بچانے کی کوشش کررہی ہے۔