عراق میں دھشت گردی کے خلاف مہم کے عنوان سے عالمی کانفرنس
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241897-عراق_میں_دھشت_گردی_کے_خلاف_مہم_کے_عنوان_سے_عالمی_کانفرنس
دہشت گردی کے خلاف مہم کے لئے عراق کی حکومت کی سیاسی اور زمینی کوششیں جاری ہیں۔ ان کوششوں کے ساتھ ساتھ عراقی حکومت نے تکفیری گروہ داعش اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کے موضوع پر دارالحکومت بغداد میں آج ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۴:۲۱ Asia/Tehran
  • عراق میں دھشت گردی کے خلاف مہم کے عنوان سے عالمی کانفرنس

دہشت گردی کے خلاف مہم کے لئے عراق کی حکومت کی سیاسی اور زمینی کوششیں جاری ہیں۔ ان کوششوں کے ساتھ ساتھ عراقی حکومت نے تکفیری گروہ داعش اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کے موضوع پر دارالحکومت بغداد میں آج ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔

اس دو روزہ کانفرنس میں کہ جو " داعش کے خلاف جنگ میں دنیا عراق کی حامی" کے نعرے کے ساتھ شروع ہوئی، دنیا کے پچاس ملکوں کے نمائندے، بین الاقوامی اداروں منجملہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب لیگ کے مبصرین، دھشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنے اپنے نقطہ ھائے نگاہ کو بیان کریں گے۔

دھشت گردی کے خلاف مہم کے لئے یہ عالمی کانفرنس، ایسی صورت حال میں عراق میں منعقد ہورہی ہے کہ اس ملک کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز، گذشتہ دو برسوں سے ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں داعش کے دھشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، اس دوران تکفیری دھشت گرد گروہ داعش کے عناصر نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں ہزاروں عراقی شہریوں کو خاک و خوں میں غلطاں کیااور ہزاروں عراقی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

عراق کے علاوہ، شام اور یمن بھی، ایک عرصے سے دھشت گرد گروہوں داعش، القاعدہ اور جبہۃ نصرہ کی دھشت گردانہ سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل ہوچکے ہیں، بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق علاقے میں دھشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے آغاز سے لیکر اب تک ان ملکوں کے کم سے کم تین لاکھ عام شہری دھشت گردوں کے علاقائی اور بیرونی حامیوں کی سازشوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے بغداد میں دھشت گردی کے خلاف ہونے والی کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر، اپنے ایک بیان میں تکفیری دھشت گردوں کے خلاف مقابلے اور دنیا کے مختلف علاقوں میں دھشت گردی کے خطرے کے سدباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اس راستے میں بغداد کے لئے عالمی حمایت کو دھشت گرد گروہوں کی نابودی کا اہم عامل قرار دیا۔

بہرحال عراق میں دھشت گردی کے خلاف مہم کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کو ماضی میں ہونے والی کانفرنسوں کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عراق ان دنوں دھشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہا ہے، اس امر نے بغداد کانفرنس کو خاص اہمیت کا حامل بنادیا ہے۔

اسی وجہ سے توقع کی جاتی ہے کہ عراق کے حکام، پچاس سے زیادہ ملکوں اور اہم بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کی اس کانفرنس میں شرکت کو غنیمت شمار کرتے ہوئے دھشت گردی کے خلاف اس موقع سے بھر پور استعفادہ کریں گے۔

عراقیوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے قبل واشنگٹن میں دھشت گردی کے خلاف مہم کے عنوان سے ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں، عالمی برادری، داعش کے خلاف جنگ اور دھشت گردی سے نجات پانے والے پناہ گزینوں کی امداد کے لئے،  دو ارب دس کروڑ ڈالر جمع کرپائی تھی۔

بغداد میں ملکوں اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کا اجتماع، ایک موقع ہے کہ عراقی حکام، اس کے ذریعے سے، دھشت گرد گروہوں کے علاقائی حامیوں کی سرگرمیوں کو برملا کرنے کے ساتھ، انسانیت کے خلاف اور تسط پسندی پر مبنی پالیسیوں کو روکنے کے لئے دھشت گرد گروہوں کے حامی ملکوں پر دباؤ بڑھائیں۔   

بہر حال دھشت گردی کی مشکلات کو حل کرنے کےلئے،  ترقیاتی منصوبوں کی تیاری، بے روزگاری کا خاتمہ اور اسلامی ملکوں میں اقلیتوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری ضروری ہے، لیکن بعض علاقائی ملکوں منجملہ سعودی عرب کی جانب سے دھشت گرد گروہوں کی حمایت نے علاقے میں دھشت گردی کی لعنت کے پھیلنے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے۔