ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241915-ہندوستان_کے_زیر_انتظام_کشمیر_میں_پر_تشدد_مظاہروں_کا_سلسلہ_جاری
ہندوستان کے وزیراعظم کشمیر کے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۵:۵۲ Asia/Tehran
  • ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری

ہندوستان کے وزیراعظم کشمیر کے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ۔

 ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اس درمیان ہندوستان کے وزیر اعظم نے تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے ۔نریندر مودی نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ حکومت چاہتی ہے کہ کشمیری نوجوانوں کے مسائل حل ہوں اور انکے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ کشمیر میں امن و امان کا قیام اور اتحاد و یکجہتی ان کے اولین ترجیح ہے۔ہندوستان کے وزیر اعظم نے کشمیر کی حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار چند گمراہ افراد کو ٹھرایا ہے۔

کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے  پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہےتاہم ہندوستانی وزیر اعظم کی طرف سے یہ پہلا بیان ہے جو سامنے آیا ہے۔کہا جارہا ہے کہ حالیہ پرتشدد واقعات میں ستر سے زیادہ عام شہری سیکوریٹی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔2010 سے لیکر اب تک کے دورانئے میں ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سب سے زیادہ پرتشدد واقعات ہوئے ہیں۔تشدد کی حالیہ لہر کی بازگشت ہندوستان کی پارلیمانوں اور سیاسی حلقوں میں بھی سنائی دی۔اسی طرح اس تشدد نے پاک ہند تعلقات کو مذید کشیدہ کردیا ہے ۔ہندوستان کی حکومت نے نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ اسلام آباد احتجاجی تحریک کی پشت پناہی کررہا ہے ۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ہندوستان کے وزیراعظم کے حالیہ بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کشمیر کے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔کشمیریوں کے مطابق ان حقائق کی جڑیں ناانصافی،غربت و افلاس،امن و امان کے نام پر شہریوں پر دباؤ اور وادی پر ہندوستانی تسلط میں پیوست ہیں ۔اس صورت حال میں ہندوستانی وزیر اعظم کی روزگاری کی فراہمی،اور نوجوانوں کی مشکلات کے خاتمے پر تاکید اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے اورکشمیر کی کشیدہ صورت حال اور علاقائی تبدیلیوں کا غلط تجزیہ کرکے رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے ۔ہندوستان کی مرکزی حکومت کی کوشش ہے کہ حالیہ کشیدگی کو بےروزگاری اور اسطرح کے دیگر مسائل سے جوڑے دوسری طرف کشمیری رہنمائوں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو اچھی طرح علم ہے کہ کشمیر میں عوام کا احتجاج بےروزگاری کے خلاف نہیں بلکہ وہ مسئلہ کشمیر کا اساسی حل چاہتے ہیں۔تاکہ وادی میں مستقل بنیادرں پر امن و امان بحال ہو اور سیاحت کی صنعت کو پہلے جیسا فروغ ملے۔ہندوستان اور پاکستان کشمیر کے مسئلے پر دوجنگیں لڑ چکےہیں اور چونکہ دونوں ملکوں کے پاس جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی اور ایٹمی ہتھیار موجود ہیں لہذا کسی قسم کی  کشیدگی اور جنگ کے غیرمتوقح نتائج سامنے آسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ہندوستان کیطرف سے مسئلل کشمیر کے بنیادی حل کی طرف توجہ نئی دہلی اسلام آباد تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے جسکے نتیجے میں علاقے میں امن و امان اور سیاسی استحکام لایا جاسکتا ہے