ایران کے خطروں پر تشویش کے بہانے ہتھیاروں کی فروخت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241930-ایران_کے_خطروں_پر_تشویش_کے_بہانے_ہتھیاروں_کی_فروخت
مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کو چھے ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ایران کے خلاف امریکہ کا پروپیگنڈا بدستور جاری ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۶:۴۰ Asia/Tehran
  • ایران کے خطروں پر تشویش کے بہانے ہتھیاروں کی فروخت

مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کو چھے ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ایران کے خلاف امریکہ کا پروپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے کیے جانے والےاس پروپیگنڈے کا محوراور مقصد ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے اپنی ایک رپورٹ میں ایرانوفوبیا کی پالیسی کے تحت دعوی کیا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدہ ہونے کے وقت سے زیادہ جدید بیلیسٹک میزائل تیار کیے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اس وقت پورے علاقے میں مار کرنے والے میزائل قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں۔

ایسی ہی ایک رپورٹ کچھ عرصہ قبل شائع کی گئی تھی جس میں خلیج فارس میں ایران کی فوجی مشقوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ اقدامات درحقیقت اس طویل مدت اسٹریٹیجی کا حصہ ہیں کہ جو کچھ عرصہ قبل امریکی صدر باراک اوباما کی موجودگی میں خلیج فارس تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں پیش کی گئی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی علاقے کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے میزائل تجربات سے متعلق تنازعہ کے حل کے مقصد سے پرامن راہ حل تلاش کرنے کے لیے نئے اقدامات اور منصوبے پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایران کی میزائل طاقت کے بارے میں امریکی حکام کے دعوے درحقیقت ایرانوفوبیا کے منصوبے پر عمل درآمد کا ایک حصہ ہے کہ جو امریکہ اور اسرائیل کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

امریکی حکمرانوں نے اس سلسلے میں خلیج فارس کے علاقے کے عرب ملکوں کو یہ باور کرایا ہے کہ سیاسی میدان میں ان کی بقا کا دارومدار امریکہ کا ساتھ دینے پر ہے۔

امریکہ ایک ایسے وقت میں ایران کے دفاعی میزائل پروگرام پرتشویش کا اظہار کر رہا ہے کہ جب وہ خلیج فارس کے علاقے کے عرب ممالک کو مسلسل مختلف قسم کے جدید ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔

اسی سلسلے میں امریکی حکومت نے سعودی عرب کو ایک ارب پندرہ کروڑ ڈالر مالیت کے مختلف قسم کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں مختلف قسم کے ٹینک اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔ اس خبر کا اعلان امریکی وزارت دفاع نے منگل کے روز کیا ہے۔ امریکہ کی دفاعی سیکورٹی تعاون کی ایجنسی نے کہ جو امریکی ہتھیاروں کی دوسرے ملکوں کو فروخت کی نگرانی کرتی ہے، اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ایک علاقائی شریک اور پارٹنر کی سیکورٹی میں اضافہ، امریکہ کی قومی سیکورٹی میں اضافے کا باعث بنے گا۔

خلیج فارس کے عرب ممالک کی فوجی ہتھیاروں کی خریداری کے بارے میں مشرق وسطی فاؤنڈیشن کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک جس قسم کے ہتھیار خرید رہے ہیں وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان ہتھیاروں کو خریدنے کا بہانہ ان ممالک کی جانب سے ایران کے نام نہاد خطرے پر تشویش ہے۔

ان اقداما ت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانوفووبیا کے پروپیگنڈے کا جاری رہنا اور اس کی دفاعی طاقت کو کمزور کرنا، ایران کے لیے ایٹمی معاہدے کے مواقع کو محدود کرنے کے لیے امریکی پالیسی کا بدستور ایک اہم حصہ ہے۔ اس کی آڑ میں خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملک علاقے میں بحران پیدا کرنے اور جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن اس پالیسی سے ان ملکوں کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی اور یہ اسرائیل اور امریکہ کو علاقے میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں مدد دے گی۔