ایران میں انسانی حقوق کی پامالی کا بے بنیاد امریکی دعوی
امریکی وزارت خارجہ میں نام نہاد انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے ادارے نے مختلف ممالک کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ کا ایک حصہ ایران کے خلاف بے بنیاد دعؤوں سے مختص کیا ہے -
بدھ کے دن منظر عام پرآنے والی اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران میں دینی اقلیتوں کو امتیازی سلوک اوربعض پابندیوں کا سامنا ہے- ایرانی اقلیتوں، جنھیں اس امریکی رپورٹ میں آذری ، کرد اور بلوچ بتایا گیا ہے ، کے حقوق کی پامالی کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے- امریکہ ایسے عالم میں دوسرے ممالک کے بارے میں اس طرح کی رپورٹوں کو شائع کررہا ہے کہ خود انسانی حقوق کو پامال کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے تاہم ایک چال اور فریب کے تحت خود کو دنیا میں انسانی حقوق کا حامی کہتا ہے- یہ رپورٹیں ، انسانی حقوق کے بارے میں دہرے معیار کی بنیاد پر تیار اور شائع ہوتی ہیں اور اس کا مقصد ان سیاسی اہداف کو حاصل کرنا ہوتا ہے جو امریکہ چاہتا ہے- مغربی ممالک ، دنیا میں اپنے معیار کے نام نہاد انسانی حقوق کی صورت حال پرمگرمچھ کے آنسو بہانے کے لئے اکثر اپنی ان رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہیں جو وہ خود غرضی اور خاص ہدف کے تحت تیارکرتے ہیں اور اپنے خودساختہ معیارات کے مطابق دیگر ممالک کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں- شہری حقوق کے سلسلے میں امتیازی سلوک اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی کے دعوے اور سزائے موت کے فیصلوں پر تشویش ، مغرب کے نام نہاد انسانی حقوق کے موضوعات کا حصہ ہیں- جبکہ ایران کے کرمنل لاء میں موت کی سزائیں، دینی اور شرعی معیارات کی بنیاد پر منشیات کے بڑے اسمگلروں ، قتل اور زنا بالجبر کے مجرموں ، امن و سیکورٹی کے خلاف اقدامات کرنے والوں اور دہشت گردوں کو ہی دی جاتی ہیں کہ جو ہر معاشرے میں سنگین جرم شمار ہوتے ہیں- انسانی حقوق کے ان دعوے داروں سے یہ پوچھنا چاہئے کہ دوسرے ممالک میں یہ چیزیں جرم سمجھی جاتی ہیں یا نہیں اور کیا معاشرے میں بدامنی پیدا کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کی جائے؟-
درحقیقت امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹیں ، ان انسانی حقوق کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہیں جو مغربی معیارات کے مطابق ہیں اور جسے مغرب انسانی حقوق کا نام دیتا ہے- جبکہ اسلامی معاشروں میں دینی اور اخلاقی معیارات اور ثقافت میں فرق ہے البتہ اس فرق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی قوانین اور شہری حقوق میں بنیادی آزادی اور انسانی حقوق کے مفاہیم اور معیارات پر توجہ نہیں دی جاتی - ایران کے آئین میں چھٹی شق سمیت متعدد ایسی شقیں موجود ہیں جن میں وسائل کی مساوی تقسیم اور امتیازی سلوک کے خاتمے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے- ایران کے آئین کی انیسویں شق میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایرانی عوام چاہے وہ کسی بھی نسل و قوم سے تعلق رکھتے ہوں ، مساوی حقوق کے حامل ہیں اور رنگ و نسل اور زبان جیسی چیزیں امیتیازی سلوک کا باعث نہیں ہوں گی- انسانی حقوق کی تیسری شق میں اسی قانون کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور قانون کی یہ شق کہتی ہے کہ ہرشخص کو فکری و مذہبی آزادی سے استفادے کا حق ہے- ایران کے آئین میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ سیاسی پارٹیوں، جماعتوں، ٹریڈ یونینوں اور اسلامی انجمنوں اور نتظیموں نیز تسلیم شدہ اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل ہے البتہ انھیں آزادی و خود مختاری کے اصولوں ، قومی اتحاد ، اسلامی اصولوں و معیارات نیز اسلامی جمہوریہ کے آئین کی خلاف ورزی کا حق حاصل نہیں ہے- حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کی رپورٹیں شائع کرنے کا امریکی مقصد انسانی حقوق کے موضوع سے ناجائز سیاسی فائدہ اٹھانا ہے-امریکہ ایسے عالم میں دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش کا دعوی کر رہا ہے کہ اس کی کارکردگی ثابت کرتی ہے کہ وہ خود شہری آزادی اور انسانی حقوق کو پامال کرنے والا ملک ہے- مسملہ امر یہ ہے انسانی حقوق کے سلسلے میں بہت سے نقائص اور خامیاں موجود ہیں- اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ انسانی حقوق کو فروغ دینے کی کوشش کرنا چاہئے اسی بنا پر ایران انسانی حقوق کے بارے میں رپورٹ تیار کرنے کا مخالف نہیں ہے تاہم وہ تاکید کرتا ہے کہ انسانی حقوق ، اس کی حمایت کے دعویدار بعض ممالک کی جانب سے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے ہتھکنڈے میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے-