موصل پر قبضے کا اصلی ذمہ دار امریکہ
عراقی فوج اور حکومت ، آج کل صوبہ نینوا کے صدر مقام موصل کو داعش دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائیاں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے
داعش دہشت گرد گروہ نے دس جون دوہزار چودہ کو موصل پر قبضہ کر لیا تھا- عراقی فوج ، صوبہ الانبارکو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے بعد اس وقت موصل سے اس دہشت گرد گروہ کو باہر نکالنے کے مرحلے سے قریب ہو رہی ہے-
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے بدھ کو داعش کے خلاف جنگ میں عراق کی حمایت کے لئے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے خلاف برسرپیکار تمام فوجی عراقی ہیں اورکوئی بھی بیرونی فوجی عراق کی مدد نہیں کر رہا ہے- موصل کی آزادی کی کارروائیوں کا آغاز قریب ہونے کے ساتھ ہی ان کارروائیوں میں شرکت کرنے والے فوجیوں کے بارے میں رپورٹیں منظرعام پر آرہی ہیں- بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ موصل کی جنگ میں امریکی فوجی شریک ہیں تاہم عراق کے سرکاری ذرائع اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں - بعض ممالک کی جانب سے داعشی و بعثی فتنے کی حمایت سے موصل پر دہشت گردوں کا قبضہ ہوا اور اس قبضے کا مقصد عراق میں قبائلی جنگ چھیڑنا اور آخرکار اس کو تقسیم کرنا تھا تاہم یہ سازش عوام ، مرجعیت دینی اور حکومت کی ہوشیاری سے ناکام ہوگئی- سقوط موصل کی سازش و فتنے کے سلسلے میں اختیار کی جانے والی ہوشیاری نے عراق میں داعش کے نفوذ اور دراندازی کو اسی شہر تک محدود کردیا ہے- عراق کی فوجی قوت کے اجتماعی مظاہرے اور ہم آہنگی و یکسوئی اور سیاسی اتحاد نے داعش کا دائرہ تنگ کردیا ہے اور موصل اس دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں کا واحد مقام رہ گیا ہے- فلوجہ جنگ اور مشرقی و شمالی عراق میں ہونے والی دوسری جنگوں کے تجربے کے پیش نظر صرف مقامی توانائیوں کے بھروسے ہی موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکتا ہے- فوج ، رضاکارفورس الحشد الشعبی ، پیشمرگہ کرد فورس اور عراقی قبائل کی مشترکہ طاقت و توانائیوں سے ایک ساتھ استفادہ ہی موصل کی جنگ میں کامیابی کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے - فلوجہ جنگ کے تجربے نے ثابت کردیا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں بیرونی فوج کی مدد کے بغیر ، صرف سیاسی اتحاد و اتفاق کے ذریعے چیلنجوں پر قابو پایا جا سکتا ہے- اس وقت جب موصل کوآزاد کرانے کے لئے الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے داخلی صلاحیتوں سے استفادہ عراق کے قومی اقتداراعلی اور ارضی سالمیت کے تحفظ کی ضمانت ہے- موصل پر قبضے میں امریکہ کے کردار کے پیش نظر واشنگٹن سمیت کسی بھی بیرونی فوج پر بھروسہ کرنے سے عراق کے قومی مفادات پورے نہیں ہوں گے- موصل پر قبضہ ، دوہزار تین میں اس ملک پر قبضے کے بعد عراق میں امریکی فوج کے تخریبی کردار کی یاد دلاتا ہے- عراق کے سابق وزیراعظم نوری مالکی کے بقول موصل پرقبضے سے پہلے ہی امریکہ کے بعض اعلی رتبہ فوجی افسران نے داعش کے سرغنوں سے گفتگو کی تھی اور موصل پر قبضے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا تھا- نوری مالکی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکہ موصل پرقبضے کا اصلی ذمہ دار ہے کہا کہ اس وقت جب موصل کی آزادی کے آپریشن کا وقت قریب آچکا ہے ، امریکی داعش کے خلاف جنگ کی بات کررہے ہیں اور خود کو عراق کا حامی بتا رہے ہیں- داعش، کا وجود القاعدہ کے بطن سے عراق میں ظاہرہوا ہے اور بحران شام کے سایے میں پروان چڑھا ہے- ابوبکر البغدادی جو داعش کا موجودہ سرغنہ ہے کسی زمانے میں عراق پرامریکی قبضے کے دوران واشنگٹن کا قیدی تھا- لہذا ایک طرح سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سال دوہزار تین میں عراق پر قبضے کا واحد نتیجہ خود امریکیوں کی نگرانی میں داعش کی تشکیل کی صورت میں نکلا ہے - اور ہیلری کلنٹن کی ، داعش کی تشکیل میں امریکہ کے کردار نامی کتاب نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے جوعلاقے اورعراق میں واشنگٹن کے تخریبی کردار کا ایک اور ثبوت ہے-