فلپائن کے صدر کا فوج کو حکم
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i242134-فلپائن_کے_صدر_کا_فوج_کو_حکم
فلپائن کے صدر نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اس ملک سے ابوسیاف دہشت گرد گروہ اور اس کے ہم فکروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۱, ۲۰۱۶ ۱۵:۱۳ Asia/Tehran
  • فلپائن کے صدر کا فوج کو حکم

فلپائن کے صدر نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اس ملک سے ابوسیاف دہشت گرد گروہ اور اس کے ہم فکروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے-

فلپائن کے صدر دوترتہ کی ابوسیاف کے ہم خیالوں سے مراد داعش دہشت گردوں کا وہ گروہ ہے جو پانچ سال پہلے سے اب تک اپنی تخریبی کارروائیوں کا مرکز جنوب مشرقی ایشیاء کو بنائے ہوئے ہے - ابوسیاف گروہ اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے فوج کو فلپائن کے صدر کے پیغام کا عام خیرمقدم کیا جانا چاہئے کیونکہ ابوسیاف گروہ اور مجمع الجزایرفلپائن جیسے گروہ ، انسانیت دشمن، اسلام مخالف اور بنیادوں کو تہس نہس کرنے والے ہیں- اس بنا پر جزیرہ مینداناؤ میں واقع زامبوآنگا دلسور فوجی اڈے میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدردوترتہ کے دہشت گردی کے خلاف مسلسل جنگ پر مبنی بیان پر بیرون ملک سے بھی ردعمل آسکتا ہے - اسلامی ملک ملیشیا و انڈونیشیا اور آسیان کے دوسرے رکن ممالک میں جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک سنجیدہ ضرورت شمار ہوتی ہے- فلپائن کے صدرنے ایسے عالم میں فوج سے ابوسیاف گروہ سمیت دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی نے آسیان پرمنفی اور ناقابل انکار اثرات مرتب کئے ہیں- یہاں تک کہ آسیان کے رکن ملکوں کے بہت سے ان پڑھ اور کم اطلاعات رکھنے والے افراد حقیقی اور انتہاپسند مسلمانوں کے درمیان تشخیص نہیں دے پاتے اور ان کے لئے یہ سمجھ پانا مشکل ہے کہ اصلی و حقیقی مسلمان کون ہے اور انتہاپسند ، اغوا کرنے والا، علاقے میں امپریالیزم کا ایجنٹ اور قدامت پرست مسلمان کون ہے- دہشت گرد گروہوں نے ، ممکنہ حد تک کم لوگوں کی جہالت ،علمی کمی ، حکومتوں کی کمزوری اور پس و پیش نیز آسیان کے رکن ملکوں میں موجود غربت و افلاس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور انھیں دہشت گرد گروہوں میں شامل کیا- اگرچہ فلپائن کے صدر کے اقدام کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مثبت قرار دیا جاسکتا ہے تاہم سیاسی ماہرین اس طرح کے اقدامات کو نامناسب سمجھتے ہیں ان ماہرین کی نظر میں فلپائن، امریکہ کے ساتھ تعاون اور اس سے امداد حاصل کرنے کے باوجود ابھی تک ایک چھوٹے سے دہشت گرد گروہ کو ختم نہیں کر سکا ہے - فلپائن کے عوام کو یاد ہوگا کہ امریکہ نے گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعے کے بعد فلپائن سمیت اپنے تمام اتحادیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد طلب کی تھی - امریکیوں نے ، فلپائن میں اپنی دوبارہ موجودگی اور فوجی اڈے کے قیام یا سرد جنگ کے منصوبوں پردوبارہ عمل شروع کرنے کا جواز پیش کرنے کے لئے دہشت گردی اور اس کے خاتمے کو بہانا بنانا شروع کر دیا ہے- ایسے عالم میں کہ جب سابق امریکی وزیر خارجہ اور موجودہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب " مشکل آپشنز" میں اعتراف کیا ہے کہ داعش درحقیقت امریکہ ہی کی پیداوارہے اور اس کو جنم دینے کا مقصد مشرق وسطی کو تقسیم کرنا رہا ہے- ماہرین کا خیال ہے کہ فلپائن کے صدر کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون کی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے- اہم نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے آسیان کے رکن تمام ممالک کے بھرپورعزم کی ضرورت ہے اور تاریخی تجربات نے ثابت کردیا ہے کہ بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اکیلے کسی منصوبہ بندی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا-