شام میں روس کا مستقل فوجی ہوائی اڈہ
روس فیڈریشن کی دفاعی کونسل اور سیکورٹی کمیشن کے نائب سربراہ فرانٹس کلنٹسویچ (Frants Klintsevich) نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ شام کے شہر لاذفیہ کے جنوب مشرق میں واقع حمیمیم کے علاقے میں روس کا ہوائی اڈا ماسکو اور دمشق کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق مستقل اڈے میں تبدیل ہو جائے گا اور یہاں مزید فوجی تنصیبات تعمیر کی جائیں گی۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کے روز شام کے حمیمیم ہوائی اڈے میں روسی فوجیوں کی طویل مدت تعیناتی کا معاہدہ، جائزے اور منظوری کے لیے روسی پارلیمنٹ ڈوما میں پیش کیا ہے۔ روس کی مسلح افواج شام کے طرطوس بحری اڈے کو بھی بحیرہ روم میں اپنی بحریہ کو لاجیسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے لیے استعمال کررہی ہیں۔
روس نے حمیمیم ہوائی اڈے میں مستقل ڈیرہ ڈال کر شام میں طویل مدت فوجی موجودگی کے لیے ایک اور قدم اٹھایا ہے۔ روس اس سے قبل صرف طرطوس کے بحری اڈے کو بحیرہ روم اور بحیرہ اسود میں اپنے بحری بیڑے کو لاجیسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ شام میں کہ جو طویل داخلی جنگ کا شکار ہے، ایک اور اڈے کو اپنے ہاتھ میں لینا، روس کا اپنی سرحدوں سے باہر کے علاقوں میں ماسکو کی فوجی طاقت کو توسیع دینے کے معنی میں ہے۔ یقینا اس پر مغرب خاص طور پر امریکہ خوش نہیں ہوں گے۔ روس دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شام کی قانونی حکومت کی مدد اور اس ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے زیادہ کوشش کرے گا۔
اس سے طاقت کا توازن شام کی حکومت اور فوج کے حق میں اور دہشت گردوں اور ان کے مغربی اور عرب حامیوں کے نقصان میں بدل جائے گا۔ روس کا اہم ترین ہدف و مقصد مشرق وسطی اور بحیرہ روم میں روس کی موجودگی کے واحد مرکز کی حیثیت سے شام کو باقی رکھنا اور مشرق وسطی کے سیاسی و فوجی معاملات پر اثرانداز ہونے کے لیے اسے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
اس بات کے پیش نظر کہ طرطوس کا بحری اڈہ اپنی سرحدوں سے باہر روس کا واحد فوجی اڈہ ہے، ماسکو اس بحری اڈے کو کہ جو روسی بحریہ کے لیے بحری لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، ماسکو اسے ہر قیمت پر اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ روس شام میں بشار اسد کی قانونی حکومت کو باقی رکھنے کو بھی اپنی ترجیحات میں سے قرار دیتا ہے، لیکن تکفیری دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا اور انھیں ختم کرنا بھی ماسکو کے اہداف میں شامل ہے۔ روسی حکام کے بقول تقریبا پانچ ہزار سے لے کرسات ہزار تک روسی باشندے شام اور عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہوں میں موجود ہیں کہ جن کی وطن واپسی روس کے لیے سیکورٹی کے سنگین خطرات پیدا کر دے گی۔
شام کی حکومت نے چند سال پہلے اپنی سرزمین پر روس کے دوسرے فوجی اڈے کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔ شامی حکومت کے نقطہ نظر سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام میں روس کے اہم کردار کے پیش نظر روس مشرق وسطی میں جتنا زیادہ موجود ہو گا اتنا ہی اس کے استحکام کے لیے بہتر ہو گا۔ شام میں دوسرا مستقل اڈہ قائم کرنے کے روسی فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ روس شام کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک اتحاد کا پابند ہے اور وہ کسی بھی حالات میں شام کی قانونی حکومت کو گرانے کی اجازت نہیں دے گا۔