دہشت گرد تکفیری گروہ داعش کی تشکیل میں اوباما کا کردار
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ریپبلیکن پارٹی کے نامزد امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملک کے موجودہ صدر باراک اوباما کو دھشت گرد گروہ داعش کا بانی قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دھشت گرد گروہ داعش امریکہ کے صدر کا احترام کرتا ہے اور اس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ اوباما اس گروہ کا بانی ہے۔ ٹرمپ نے اسی طرح اپنی ڈیموکریٹ حریف ہیلری کلنٹن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہیلری نے اوباما کے ساتھ ملکر دھشت گرد گروہ داعش کی تشکیل میں تعاون کیا تھا۔ ٹرمپ کا بیان، دھشت گردی اور سیکورٹی کے موضوعات کے ضمن میں امریکی صدر پر شدید ترین تنقید شمار ہوتی ہے۔
اس سے قبل ریپبلیکن پارٹی کے رہنما اور سیاسی شخصیات اور سیکورٹی حکام، دھشت گرد گروہ داعش کی تشکیل، مشرق وسطی میں تشدد پسند اور انتہاپسند گروہوں کی امریکہ کی جانب سے آشکارا اور خفیہ امداد دیئے جانے کے حوالے سے باراک اوباما کی ڈیموکریٹ حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔
اس سے پہلے ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا کہ امریکہ میں اس ملک کی دو اہم پارٹیوں کے کسی نامزد صدارتی امیدوار نے، امریکہ کے موجودہ صدر پر کسی ایسے گروہ کی تشکیل کا الزام عائد کیا ہوکہ جو اس ملک کے فوجیوں اور عام شہریوں کو قتل کررہا ہو۔
ہیلری کلنٹن کی انتخاباتی کمیٹی نے ٹرمپ کے ان بیانات کو امریکہ کی توہین قرار دیا، جبکہ ریپبلیکن پارٹی کے بعض رہنماؤں نے بھی اس قسم کے بیان کو ملکی سیکورٹی کے خلاف قرار دیا ہے۔
البتہ امریکی حکومت نے کبھی بھی، تکفیری گروہوں منجملہ داعش کی تشکیل میں اپنی غلطی کو مسترد نہیں کیا ہے۔
مثال کے طور امریکہ کے خفیہ ادارے کے ایک اعلی عہدیدار نے تقریبا ایک سال قبل اعتراف کیا تھا کہ امریکہ، عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر داعش کے قبضے کو ناکام بنا سکتا تھا۔
اسی طرح بہت سی ایسی رپورٹیں موجود ہیں کہ جن سے نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ نے شام اور اسی طرح عراق میں بقول ان کے اعتدال پسند گروہوں کو غذائی اور لاجیسٹک امداد فراہم کی جو بلا واسطہ یا بلواسطہ طور پر دھشت گرد گروہ داعش کے ہاتھوں میں چلی گئی۔
یہ ایسے میں ہے کہ داعش کی حامی علاقائی حکومتیں منجلمہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کو واشنگٹن کی مکمل پشتپناہی حاصل رہی ہے۔
اس لحاظ سے عالمی رائے عامہ اور خاص طور پر امریکہ کے عوام کی اکثریت، دھشت گرد گروہ داعش کی تشکیل میں امریکہ کے دانستہ یا نادانستہ کردار سے مکمل طور پر آگاہ ہوگئے ہیں۔
بہرحال، اس وقت، امریکہ کے صدر اور اس ملک کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف اور امریکہ کی سابق وزیر خارجہ، موجودہ تاریخ کے خونخوار ترین دھشت گرد گروہ کی تشکیل کے حوالے سے اس ملک کے نامزد صدارتی امید وار کے الزامات کی زد میں ہیں۔
ممکن ہے یہ الزامات، امریکہ کے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں ڈیموکریٹس کے ووٹوں پر اثرانداز ہوں۔
اسی کے ساتھ یہ الزامات، دھشت گرد گروہ داعش کو وجود میں لانے میں امریکی حکومت کے کردار کے حوالے سے ایک دستاویز بھی ہیں۔
در حقیقت یہ موضوع، بلآخر امریکہ کے چہرے کو کہ جو اپنے آپ کو دھشت گردی کے خلاف مہم میں عالمی برادری کا رہبر سمجھتا ہے، دغدار کردے گا۔