ظریف کا دورہ ترکی ، علاقے میں نئی تبدیلیاں رونما ہونے کی پیشگوئی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i242359-ظریف_کا_دورہ_ترکی_علاقے_میں_نئی_تبدیلیاں_رونما_ہونے_کی_پیشگوئی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جمعے کے روز ترکی کے اعلی حکام سے ملاقات اور دوطرفہ تعلقات نیز علاقائی صورتحال سے متعلق گفتگو کے لئے ترکی پہنچے۔ جواد ظریف نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو کی دعوت پر اس ملک کا دورہ کیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۲, ۲۰۱۶ ۱۶:۰۳ Asia/Tehran
  • ظریف کا دورہ ترکی ، علاقے میں نئی تبدیلیاں رونما ہونے کی پیشگوئی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جمعے کے روز ترکی کے اعلی حکام سے ملاقات اور دوطرفہ تعلقات نیز علاقائی صورتحال سے متعلق گفتگو کے لئے ترکی پہنچے۔ جواد ظریف نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو کی دعوت پر اس ملک کا دورہ کیا ہے-

ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ظریف ، مولود چاووش اوغلوسے ملاقات کے علاوہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے بھی ملاقات کریں گے-

جواد ظریف ایران کے وہ پہلے اعلی رتبہ عہدیدار ہیں جو گذشتہ دنوں پندرہ جولائی کو ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد ترکی کا دورہ کر رہے ہیں- اسلامی جمہوریہ ایران نے ترکیہ کا ہمسایہ ہونے اور اس ملک کا اسٹریٹیجک شریک ہونے کے ناطے، اس ملک میں ہونے والی ناکام بغاوت کی سب سے پہلے مذمت کی -  ظریف نے اس کودتا کے دوران ترکی کے وزیر خارجہ کے ساتھ کئی بار ٹیلفونی گفتگو میں صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا -

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں اس ملک میں ہونے والی ناکام بغاوت کی مذمت کی اور کہا کہ ایران ، ترکی کی قانونی حکومت اور ملت کے شانہ بشانہ کھڑا ہے-

ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد ترکی کی حکومت اور قوم کے لئے ایران کا حمایتی موقف ، دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات اورعلاقے میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے مقابلے میں ان کے مشترکہ نقطہ نگاہ  کی نشاندہی کرتا ہے- 

ایران اور ترکی کے عوام کے مشترکہ مذہبی اور ثقافتی اشترکات نے ماضی سے زیادہ ان دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے قریب کردیا ہے- عوام کے درمیان گہرے تعلقات نے ترکی اور ایران کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مستحکم کیا ہےاور حتی علاقائی مسائل میں پائے جانے والے اختلاف نظر نے بھی، ان دو ہمسایہ اور اہم ملکوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا ہے- خارجہ تعلقات میں ایران  ہمسایہ ملکوں کو ترجیح دیتا ہے، اور یہ چیز تہران اور انقرہ کے گہرے تعلقات میں قابل مشاہدہ ہے- اور اسی تناظر میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے آغاز کے ساتھ ہی، ایرانی حکام نے انقرہ کی حکومت کی حمایت میں موقف اختیار کیا -  

ایران جس طرح سے اپنے ملک میں امن و امان کی برقراری کے لئے کوشاں ہے، اپنے پڑوسی ملکوں منجملہ ترکی میں بھی امن و استحکام کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہے- یہی احساس ذمہ داری، انقرہ میں محمد جواد ظریف کی اسٹریٹیجک موجودگی کے ساتھ ہی ترکی اور ایران کے دوستانہ تعلقات کو ماضی سے زیادہ آشکارہ کرتی ہے-

ایران اور ترکی دوستانہ تعلقات، اور علاقے کو درپیش چیلنجوں کے سلسلے میں مشترکہ تشویش رکھنے کے سبب ، شام کے بحران سمیت علاقے کے دیگر مسائل کے حل اور علاقائی استحکام میں اہم کردار کے حامل ہیں-دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا تقاضا یہ ہے کہ اہم ممالک خاص طور پر ایران اور ترکی ہاتھ میں ہاتھ دے کر علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے لئے دہشت گردوں اور بدامنی پھیلانے والے دیگر عناصر کے ساتھ مقابلہ کریں-

ترکی کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور علاقے کے تعلق سے اس ملک میں پائی جانے والی نئی فکرو سوچ نے، علاقے کی تبدیلیوں میں مثبت افق کھولے ہیں- - ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا گذشتہ منگل کو انجام پانے والا دورہ روس، اور اس ملک کے صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ ہونے والی ان کی ملاقات سے، علاقے کی تبدیلیوں کو نئی جہت ملے گی- 

اس کے علاوہ ترکی کے وزیر اعظم بن علی ییلدریم کے اس بیان سے، کہ اب ترکی اختلافات کے حل کے لئے علاقے کے ملکوں کے ساتھ مزید تعاون کرے گا اور شام کے مسئلے کو ترجیح حاصل ہوگی، علاقے میں نئی اور مثبت تبدیلیاں رونما ہونے کی غمازی ہوتی ہے-

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا یہ تاریخی اور اسٹریٹیجک دورہ ترکی بھی، اسی تناظر میں قابل غور ہے- کیوں کہ اردوغان کے بقول ، ترکی پر عزم ہے کہ ایران اور روس کے تعاون سے ، علاقے میں امن و سلامتی کی بحالی کے لئے علاقے کے مسائل کو حل کرنے کے لئے مزید کوششیں بروئے کار لائے گا-