فلسطینی قیدیوں کی ابتر صورتحال پر عالمی تشویش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i242431-فلسطینی_قیدیوں_کی_ابتر_صورتحال_پر_عالمی_تشویش
فلسطینی قیدیوں کی ابتر صورتحال کے سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر تشویش جاری ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی، جو عام طور پر مغرب کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی مانند اسرائیل کی جارحیتوں کے مقابلے میں خاموشی اختیار کر لیتی ہے، صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی قیدی "بلال کاید" کو، جس نے دو ماہ قبل سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے ، جیل سے رہا کردے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۳:۲۵ Asia/Tehran
  • فلسطینی قیدیوں کی ابتر صورتحال پر عالمی تشویش

فلسطینی قیدیوں کی ابتر صورتحال کے سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر تشویش جاری ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی، جو عام طور پر مغرب کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی مانند اسرائیل کی جارحیتوں کے مقابلے میں خاموشی اختیار کر لیتی ہے، صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی قیدی "بلال کاید" کو، جس نے دو ماہ قبل سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے ، جیل سے رہا کردے-

بلال کاید نے اپنی قید کی مدت ختم ہونے کے بعد کسی الزام کے ثابت ہوئے بغیر قید میں رکھے جانے پر بھوک ہڑتال کی ہے- بلال کاید کو دوہزار ایک کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسرائیل کی فوجی عدالت نے دوہزار دو میں ان پر عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے لئے سرگرمیاں انجام دینے کے الزام میں چودہ سال قید کی سزا سنائی تھی-

کاید کو جون کے وسط میں رہا کیا جانا تھا تاہم اسرائیل نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ انہیں انتظامی حراست میں رکھا جائے – انتظامی حراست ایک طرح کی جیل ہے جہاں فلسطینی قیدیوں کو کسی طرح کا الزام ثابت ہوئے بغیر اور ان پر مقدمہ چلائے بغیر قید میں رکھا جاتا ہے اور اسرائیلی حکام کو اس بات کی بھی اجازت حاصل ہوتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کو چھ ماہ تک قید میں رکھیں- اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس حراست میں نامعلوم مدت تک بھی قیدیوں کو رکھا جاتا ہے- اس طرح سے فلسطینی قیدی کسی جرم اور الزام کے ثابت ہوئے بغیر، اسرائیلی حکومت کی جیلوں میں زندگی گذارتے ہیں-  

فلسطینیوں کے لئے لمبی مدت تک قید کی سزائیں اور ان کے خلاف انتظامی حراست جیسے انسانیت سوز قوانین کی مدت میں توسیع، وہ اسرائیلی اقدامات ہیں جسے یہ حکومت ، فلسطینی قیدیوں کو رہائی نہ دینے کے مقصد سے انجام دے رہی ہے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران فلسطینی قیدیوں کی ابتر صورتحال سے متعلق، مختلف اعداد و شمار اور رپورٹیں منظر عام پر آئی ہیں- اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل فلسطینی قیدیوں کے حامیوں کے کلب نے اعلان کیا تھا کہ ایک ہزار فلسطینی قیدی صیہونی حکومت کے جیلوں میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور تقریبا ایک سو ساٹھ فلسطینی کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں اور بحرانی صورتحال سے دوچار ہیں اور انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے-

صیہونی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کےنتیجے میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد سات ہزار تک پہنچ چکی ہے اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ بیشتر فلسطینی قیدی لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہیں-

صیہونی حکومت فلسطینی قیدیوں کو شدید ایذائیں دے کر، اور بین الاقوامی کنوینشنوں منجملہ فلسطینیوں سے متعلق جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمیشہ اس کوشش میں رہی ہےتاکہ فلسطینی قیدیوں پر جنگی قیدی کا اطلاق نہ ہونے پائے-

صیہونی حکومت اس طرح  اس کوشش میں ہے کہ جس طرح سے بھی وہ چاہے اپنی نسل پرستانہ اور تشدد آمیز کاروائیاں فلسطینیوں کے خلاف انجام دے-

اس طرح سے بیشتر فلسطینی قیدیوں کو نامعلوم سرنوشت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہت سے قیدی، اسرائیلی جیلوں میں ہی شہید ہوجاتےہیں یا پھر دائمی طور پر مفلوج اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں-

کچھ عرصہ قبل فلسطینی قیدیوں اور رہائی پانے والوں سے متعلق مرکز " واعد " نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ قدس کی غاصب حکومت وہ واحد حکومت ہے کہ جس نے دنیا میں قدیوں پر تشدد کے خلاف کنوینشن پر دستخط نہیں کئے ہیں کہا کہ اس مسئلے سے واضح ہوجاتا ہے کہ غاصب اسرائیلی حکومت تمام بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کے مراکز کے اصول و قوانین کو پامال کر رہی ہے – صیہونی حکومت عالمی برادری کی خاموشی کی آڑ میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف مظالم میں شدت لائی ہے – اور اس مسئلے نے عملی طورپر فلسطینیوں کے لئے ناقابل تحمل حالات پیدا کردیئے ہیں اور اس صورتحال کے جاری رہنے سے قیدیوں کی حالت روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ نے فلسطینی قیدیوں کے حالات کا جائزہ لینے اور انہیں صیہونی حکومت کے چنگل سے رہا کرانے کے لئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے-