ظریف کا دورہ ترکی، مختصر مگر مفید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i242443-ظریف_کا_دورہ_ترکی_مختصر_مگر_مفید
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنا ایک روزہ دورہ مکمل کر لیا ۔ ایک ایسا دورہ کہ جو بہت مفید رہا۔ جواد ظریف نے اس دورے میں اپنے ترک ہم منصب اور اس ملک کے صدر سے ملاقات کی-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۰ Asia/Tehran
  • ظریف کا دورہ ترکی، مختصر مگر مفید

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنا ایک روزہ دورہ مکمل کر لیا ۔ ایک ایسا دورہ کہ جو بہت مفید رہا۔ جواد ظریف نے اس دورے میں اپنے ترک ہم منصب اور اس ملک کے صدر سے ملاقات کی-

انہوں نے جمعے کو ترکی کے ایئرپورٹ پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت اور تازہ ترین صورتحال کا ذکر کیا اور اس فوجی بغاوت کی مذمت کی – ظریف نے کہا کہ ایران نے سب سے پہلے ترکی میں باغیوں کے اقدام کی مذمت کی کیوں کہ ہمارا خیال ہے کہ ہمارے علاقے میں فوجی بغاوت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور عوام کی خواہش اور ان کے مطالبات کو، ایک فوجی گروہ کے اقدام کے ذریعے سرکوب نہیں کیا جا سکتا-

ان خیالات سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ جواد ظریف نے اجتماعی اور سیکورٹی کے مسائل کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کے لئے انقرہ کا دورہ انجام دیا ہے- اور اسی بنیاد پر انہوں نے اپنے ترک ہم منصب مولوود چاووش اوغلو اور ترکی کے صدر کے ساتھ ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کی ہے-

ایران اور ترکی کے تعلقات حالیہ برسوں میں، کہ جب علاقے کی صورتحال پرتلاطم ہے ، نشیب و فراز سے دوچار رہے ہیں- لیکن ان اختلافات پر دونوں ملکوں کے حکام کی گرفت رہی ہے-  یہی امر اس بات کا باعث بنا ہے کہ تہران اور انقرہ، مشکلات اور چیلنجوں سے قلیل مدت فائدہ اٹھانے کی فکر نہ کریں- جیسا کہ مولود چاووش اوغلو نے ترکی کی حمایت میں تہران کے مواقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس وقت ترکی کی صورتحال کی کوئی واضح تصویر نہیں تھی اس وقت ایران کے وزیر خارجہ نے بارہا ٹیلیفون پر بات چیت کی اور باغیوں کے مقابلے میں ترکی کی حکومت اور قوم کے ساتھ اپنی حمایت کا اعلان کیا-

ان مسائل کے پیش نظر ، موجودہ حالات میں جواد ظریف کا دورہ انقرہ، بہت سے تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے نقطہ نگاہ سے ایران ، ترکی اور روس کے حالیہ سہ فریقی اجلاس کے دائرے میں قابل غور ہے- ان مبصرین کے نقطہ نگاہ سے ان ملکوں کو علاقے میں اہمیت حاصل ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ آپس میں بات چیت اور باہمی تعاون جاری رکھیں، یہاں تک کہ اگر اختلاف نظر بھی پایا جائے تو اسے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کریں-  

علاقے کی تبدیلیوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت سب کچھ، علاقے کی ابتر صورتحال سے متاثر ہے- سب کی نگاہیں شام اور عراق میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر اور دہشت گرد گروہوں سے مقابلے پر مرکوز ہیں اور ہر جگہ دہشت گردوں سے مقابلے کی بات ہو رہی ہے-

ترکی کے وزیر خارجہ نے اسی تناظر میں کہا ہے کہ ایران اور ترکی کا باہمی تعاون، شام میں پائیدار امن کے قیام کے دائرے میں ہے – انہوں نے کہا کہ تہران اور انقرہ شام کی ارضی سالمیت کے بارے میں ہم فکر و ہم آہنگ ہیں اور دونوں ملکوں کے جاری مذاکرات، شام میں پائیدار جنگ بندی کے قیام میں مثبت کردار کے حامل ہیں-

در ایں اثنا گذشتہ ہفتے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ صدر مملکت حسن روحانی کی ٹیلیفونی گفتگو کے بعد روس کے خبری ذرائع نے شام کے بحران کے حل کے لئے ، روس ، ترکی اور ایران کے درمیان باہمی تعاون کی خبر دی ہے- ایران میں روسی سفارتخانے نے بھی گذشتہ جمعرات کو کہا کہ روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانف ، علاقے اور خاص طور پر شام کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے پندرہ اگست کو تہران کا دورہ کریں گے-

 اس وقت علاقے کے سلسلے میں انجام پانے والی کوششوں میں، شام کے مسئلے کو ترجیح حاصل ہے- آئندہ چند دنوں میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور نائب صدر جو بائیڈن بھی انقرہ کا سفر کرنے والے ہیں- ایسے حالات میں مذاکرات کے مواقع کو گنوانا نہیں چاہئے – ایران نے ہمیشہ شام میں امن کے قیام پر تاکید کی ہے اور آج بھی اس کا یہی خیال ہے- لیکن ان دنوں جو فرق آیا ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت سبھی حتی امریکہ بھی جانتا ہے کہ دہشت گردی سب کے لئے خطرہ ہے – اسی لئے داعش اور جبھۃ النصرہ سمیت سبھی دہشت گردوں سے مقابلے کی ضرورت ہے – ترکی بھی اس وقت اس سلسلے میں تعاون میں اضافے کا خواہاں ہے- البتہ ترکی کے اس موقف میں تبدیلی کی، ماضی کے تجربوں کے پیش نظر پیشگوئی کی جا رہی تھی- واضح ہے کہ اس وقت ہم شام اور مشرق وسطی ( مغربی ایشیا) میں بنیادی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں- البتہ ابھی تمام گرہیں نہیں کھلی ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ سعودیوں کے تخریبی اقدامات اور علاقے میں جاری تبدیلیوں کے تعلق سے ان کا ردعمل کیسا ہوگا-