انسانی حقوق کی خلاف ورزی ، امریکی نصیحتوں کی آڑ میں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i242575-انسانی_حقوق_کی_خلاف_ورزی_امریکی_نصیحتوں_کی_آڑ_میں
امریکی حکومت کو دیگر ملکوں کو پند ونصیحت کرنے کے بجائے مسلمانوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی پر توجہ دینی چاہئے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۱ Asia/Tehran
  • انسانی حقوق کی خلاف ورزی ، امریکی نصیحتوں کی آڑ میں

امریکی حکومت کو دیگر ملکوں کو پند ونصیحت کرنے کے بجائے مسلمانوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی پر توجہ دینی چاہئے-

 یہ بات ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں کہی – انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران میں مذہبی آزادی کی صورتحال کے سلسلےمیں  امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں درج دعووں کو بے بنیاد، مبالغہ آمیز اور غیر تعمیری قرار دیتے ہوئے انہیں مستر کردیا- بہرام قاسمی نے ہفتے کے روز کہا کہ اس رپورٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ذکر کی گئی باتیں، بے بنیاد اور تکراری ہیں کہ جنہیں دشمنی اور سیاسی اغراض و مقاصد کی بناء پر تحریر اور شائع کیا گیا ہے- انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے آئین اور قوانین کی بنیاد پر ، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو سرکاری حیثیت سے تسلیم کیا ہے اور تمام ایرانی شہری، ملکی قوانین کے دائرے میں اپنے حقوق سے بہرہ مند ہیں-

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹوں میں، کہ جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے، امریکہ میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ امریکی حکومت دیگر ملکوں کو پند و نصیحت کرنے کے بجائے مسلمانوں کے حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر توجہ دے-

ٹھوس ثبوت و شواہد پر مبنی رپورٹوں سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ  امریکہ اور یورپ میں اسلام اور مسلمان مخالف اقدامات میں شدت آئی ہے اور آئےدن مسلمانوں کی بے احترامی اور ان کے خلاف تشدد کی خبریں شائع ہوتی ہیں- اور گذشتہ برسوں میں جو کچھ ان ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف انجام پایا، شاید مغرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا تاریک ترین باب ہو-

اس سلسلے میں شائع ہونے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ سمیت مختلف امریکی اور یورپی ممالک میں انسانی حقوق کی عدم رعایت، اور اسلامو فوبیا میں تیزی آنے کے لحاظ سے ، ان ملکوں کی صورتحال تشویشناک ہے-  اسلامو فوبیا یورپی اور امریکی ملکوں میں خاص طور پرجوانوں اور انتہا پسند گروہوں کے درمیان روز مرہ کی زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے- رپورٹوں سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں اسلامو فوبیا اور اسلام مخالف جنگ نیز مہاجروں اور پناہ گزینوں کے خلاف اقدامات ، تشویشناک صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں-

ان دنوں امریکہ اور بعض دیگر یورپی ملکوں میں نسل پرستانہ رویوں اور ایک گروہ پر دوسرے گروہ کے نسلی امتیاز کے سبب برتری کی تھیوری کی بیناد پر، انسانیت سوز تخریبی افکار کی ترویج کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جس سے انسانی حقوق کے دعویدار ملکوں میں انسانیت مخالف افکار پھیلنے کی نشاندہی ہوتی ہے-

ایف بی آئی کے اعلان شدہ اعداد وشمار کے مطابق ہر روز امریکہ میں ایک سیاہ فام، ایک سفید فام کے ہاتھوں قتل کیا جاتاہے اور پولیس کے جو اہلکار سیاہ فاموں کے قتل میں ملوث ہوئے ہیں ان کی سزاؤں میں بھی جانبداری کی جاتی ہے- سیاہ فاموں کے ساتھ امریکی سفید فاموں کا انسانیت سوز رویہ ، گوانتانامو جیل اور عراق کے ابو غریب جیل میں قیدیوں کو سخت ایذائیں دینا، انسانی حقوق کے سلسلے میں امریکی سیاہ کارناموں کا ایک حصہ ہے-

یہ سب کچھ مغربی دنیا میں انسانی حقوق کے ساتھ دوہرا معیار اپنائے جانے کے مذموم آثار و نتائج ہیں کہ جن کی ترویج میں انسانی حقوق کے دعویدار ملکوں کا نمایاں حصہ ہے-

اس کے باوجود امریکہ بدستور انسانی حقوق کے دفاع کا دعویدار ہے اور دیگر ملکوں کو انسانی حقوق کی نصیحت کرتا ہے جبکہ حقائق سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکی رویہ ، انسانی کرامت و شرافت اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کےدفاع سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ یہ مسئلہ بھی امریکہ کے سیاسی اہداف کے حصول کے لئے ایک ہتھکنڈے میں تبدیل ہوچکا ہے-