سیاستداں اور ذرائع ابلاغ، داعش کے حامیوں کے مرکز
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i242578-سیاستداں_اور_ذرائع_ابلاغ_داعش_کے_حامیوں_کے_مرکز
عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ اس ملک میں کمزور ہوچکا ہے اور اس گروہ کے مختلف سطح پر بدستور حامی پائے جاتے ہیں-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۴ Asia/Tehran
  • سیاستداں اور ذرائع ابلاغ، داعش کے حامیوں کے مرکز

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ اس ملک میں کمزور ہوچکا ہے اور اس گروہ کے مختلف سطح پر بدستور حامی پائے جاتے ہیں-

عراقی وزیر اعظم نے ہفتے کے روز بغداد کے الکرادہ علاقے میں دہشت گردانہ کاروائی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام میں کہا کہ سیاستدانوں اور میڈیا کے افراد کے درمیان داعش کے حامی پائے جاتے ہیں لیکن عراق کے عوام اپنے ملک سے پورے طور پر داعشی عناصر کا صفایا کرنے میں پرعزم ہیں-

العبادی نے اپنے بیان میں یقینا ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے کہ  سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کے درمیان داعش کے حامی ہیں اور یہی مسئلہ دہشت گرد گروہوں کی نابودی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے- داعش کے  پاس  وسیع پیمانے پر فوجی ہتھیاروں کی موجودگی اور بڑی تعداد میں اس گروہ میں افراد کی شمولیت، سیاستدانوں اور میڈیا کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھی- اس کے علاوہ داعش میں شامل ہونے والے جنگجو افراد یورپ اور دیگر علاقوں سے طویل راستے طے کرتے اور اس میں شامل ہوتے ہیں اور انہیں ملکوں کی سرحدیں پار کرنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اس سے بھی اہل سیاست اور میڈیا کے درمیان داعش کے حامیوں کے وجود کی غمازی ہوتی ہے- مغربی ایشیا میں داعش میں شمولیت کے لئے، دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والے جنگجوؤں کے تعلق سے ذرائع ابلاغ کوریج دیتے ہیں اور مغربی حکومتیں بھی اس بارے میں تشویش ظاہر کر رہی ہیں لیکن دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے حسب توقع کوشش نہیں کر رہی ہیں –

مغربی اور عرب حکومتیں داعش کے دہشت گردانہ اقدامات میں تیزی آنے پر اظہار تشویش کر رہی ہیں اور مغربی ذرائع ابلاغ اور بعض عربی میڈیا بھی داعش کی جارحیتوں کی خبریں فرنٹ پر رکھتے ہیں اور داعش کی جانب سے شائع ہونے والی ویڈیوز کو بھی بارہا اپ لوڈ کرتے ہیں، لیکن داعشی فکر اور اس سے نمٹے جانے کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی بات نہیں کہتے ہیں-

دہشت گردوں کی مختلف شکلوں اور خاص طور پر داعشی دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے، دہشت گردوں کی مالی اور فکری جڑوں کو سکھانا لازمی ہے اور اس سلسلے میں اہل سیاست اور ذرائع ابلاغ موثر کردار ادا کرسکتے ہیں-

جب تک کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی ترویج کرنے والے مراکز کے خلاف ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جائے گا اور دہشت گردوں کی مالی امداد کا سلسلہ بند نہیں ہوگا، داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے ایسے حامی موجود رہیں گے جو عملی طور پر ان کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں- سعودی عرب جیسے ممالک اور ان  سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے، دہشت گردی سے مقابلے پر مبنی دعوے کھوکھلے ہیں اور ان کے گفتار وعمل سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ داعش دہشت گرد گروہ کی حمایت کر رہے ہیں اور وہی اس کو وجود میں لانے والے ہیں- العربیہ اور الجزیرہ جیسے سعودی عرب اور قطر کے ٹی وی چینلز، داعش دہشت گرد گروہ کے ایک حمایتی نیٹ کے طور پر عمل کر رہے ہیں- داعش کے میڈیا کسی روک ٹوک کے بغیر اپنا کام کر کر رہے ہیں اور اس میں جو کام کرنے والے ہیں وہ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں- یورپی ہتھیاروں اور امریکی میزائلوں کا داعش کے ذریعےاستعمال اور اس اقدام کے خلاف انسانی حقوق کے دفاع کے دعویدار ذرائع ابلاغ کی خاموشی ، داعش کو باقی رکھنے کی پالیسی اور ہتھیاروں کی تجارت کے گٹھ جوڑ کی آئینہ دار ہے کہ جس سے دونوں دعویدار فائدہ اٹھا رہے ہیں-