چین کے وزیر خارجہ کا دورہ ہندوستان
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i242593-چین_کے_وزیر_خارجہ_کا_دورہ_ہندوستان
چینی وزیر خارجہ کے دورہ ہندوستان اور اس ملک کے حکام کے ساتھ نئی دہلی میں ان کی ہونے والی ملاقات سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ دونوں ملک دو طرفہ تعاون میں توسیع کے لئے پرعزم ہیں- ان ملاقاتوں میں بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان دو طرفہ تعاون میں فروغ کی راہوں کا جائزہ لیا گیا-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۴:۳۸ Asia/Tehran
  • چین کے وزیر خارجہ کا دورہ ہندوستان

چینی وزیر خارجہ کے دورہ ہندوستان اور اس ملک کے حکام کے ساتھ نئی دہلی میں ان کی ہونے والی ملاقات سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ دونوں ملک دو طرفہ تعاون میں توسیع کے لئے پرعزم ہیں- ان ملاقاتوں میں بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان دو طرفہ تعاون میں فروغ کی راہوں کا جائزہ لیا گیا-

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں نیوکلئیر سپلائر گروپ این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کے بارے میں بھی بات چیت کی-

چینی وزیر خارجہ نے اسی طرح ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے ساتھ ملاقات میں بریکس کے سالانہ اجلاس سے متعلق مسائل کا بھی جائزہ لیا- واضح رہے کہ بریکس گروپ میں برازیل، روس، ہندوستان، چین، جنوبی افریقہ اور چین شامل ہیں-

این ایس جی کے حالیہ اجلاس میں ہندوستان کی رکنیت سے متعلق چین کی مخالفت اس بات کا باعث بنی کہ ہندوستان تمام رکن ملکوں کی رضامندی حاصل کرنے کے باوجود ، اس گروپ کا رکن نہیں بن سکا – اس گروپ میں رکنیت سے ہندوستان نمایاں طریقے سے اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو پھیلا سکے گا-

نیوکلیئر سپلائر گروپ این ایس جی کے اڑتالیس رکن ملکوں کو ایٹمی ٹکنالوجی کی درآمدات اور برآمدات کی اجازت حاصل ہے- لیکن چین نے جو ایشیا میں ہندوستان کا ایٹمی اور اقتصادی و فوجی حریف شمار ہوتا ہے ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ اپنی مخالفت کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ ایٹمی شعبے میں ہندوستان کی پیشرفت اور ترقی میں رکاوٹ بن جائے- جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے نقطہ نگاہ سے، ہندوستان کی حکومت کو بین الاقوامی حلقوں میں اپنے پروگراموں کو آگے بڑھانے کے لئے، بیجنگ حکومت کی توجہ حاصل کرنے اور اس کے تعاون کی ضرورت ہے- چین اور ہندوستان، مختلف مسائل منجملہ سرحدی مسائل میں اختلاف رکھتے ہیں اور یہ مسئلہ برسوں سے ان دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز رہا ہے- بیجنگ اور نئی دہلی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تجارتی اور اقتصادی تعاون میں فروغ کے مسئلے کو سرحدی اختلافات سے متاثر ہوئے بغیر انجام دیں اور ایک مخصوص کمیٹی ان اختلافات کا جائزہ لے لیکن ایسا سمجھا رہا ہے کہ بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان کچھ نئے اختلافات وجود میں آئے ہیں کہ جن کے حل کے لئے فریقین کے درمیان ماضی سے زیادہ ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے-

چین اور ہندوستان میں تقریبا ڈھائی ارب کی آبادی ہے کہ جو ان دونوں ملکوں کی اقتصادی ترقی میں مدد کے لئے ایک گنجائش شمار ہوتی ہے- لیکن ان کے باہمی اختلافات اس بات کا باعث بنے ہیں کہ مغربی ممالک نے چین اور ہندوستان کی منڈیوں کے بیشتر حصے کو خود سے مخصوص کرلیا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ علاقائی حلقوں کے نقطہ نگاہ سے مغرب کی فوجی اور اقتصادی نیز اس کے فوجی ادارے نیٹو کی جانب سے اپنے اثر و رسوخ قائم کرنے کی روز افزوں کوششوں کے سبب، بیجنگ اور نئی دہلی کو ماضی سے زیادہ ان کوششوں کے نتائج سے تشویش لاحق ہے-

اس کے ساتھ ہی دونوں فریق علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں حساس ہیں اور وہ ایک دوسرے کے اثرو رسوخ کے علاقوں کی شناخت کے باوجود، اب وہ چاہے جغرافیائی لحاظ سے ہو یا بین الاقوامی اداروں کے لحاظ سے، ایشیا کی با اثر طاقتوں کی حیثیت سے عمل نہیں کرسکے ہیں-

مغرب کی پالیسی بھی چین اور ہندوستان کے درمیان اختلاف کے بیج بونا ہے اور اس مقصد کوپانے کے لئے وہ ہندوستان کو جدید ترین ہتھیار فروخت کرکے حقیقت میں چین میں حساسیت پیدا کر رہا ہے اور بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دے رہا ہے-