ہندوستان کا پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات سے انکار
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i242617-ہندوستان_کا_پاکستان_کے_ساتھ_دو_طرفہ_مذاکرات_سے_انکار
ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے دو طرفہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے پاکستان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے باشندوں کی حمایت ختم کرنے کی صورت میں ہی اس کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۶:۳۹ Asia/Tehran
  • ہندوستان کا پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات سے انکار

ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے دو طرفہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے پاکستان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے باشندوں کی حمایت ختم کرنے کی صورت میں ہی اس کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

سشما سوراج نے اقوام متحدہ میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بین الاقوامی کنونشن کی منظوری کے لیے ہندوستان کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی دہشت گردی کے خلاف تعاون کو ملکوں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں ایک اہم اصول سمجھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکتا اور پاکستان کو اس سلسلے میں فوری اور سنجیدہ اقدام کرنا چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جامع مذاکرات گزشتہ جنوری میں ہندوستان کے خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر کے اسلام آباد کے دورے سے شروع ہونا تھے لیکن ہندوستان کی ریاست پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے۔ ہندوستان نے پاکستان پر اس دہشت گردانہ حملے کے ذمہ داروں کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان کے بعض ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے مسئلے پر اسے مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن بعض خبری حلقوں نے اسے دو طرفہ جامع مذاکرات شروع کرنے کی دعوت سمجھا ہے۔

ہندوستانی حکومت جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر اس کا داخلی مسئلہ ہے اور وہ اس پر مذاکرات نہیں کرے گی۔ ہندوستانی حکومت نے حال ہی میں پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت بعض بین الاقوامی اداروں کو لکھے گئے خط کے بعد کہ جس میں ان سے مسئلہ کشمیر میں مداخلت کرنے اور اس کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اعلان کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان کا داخلی مسئلہ ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیری عوام کی رائے جاننے کے لیے اس علاقے میں ریفرینڈم کرانے پر زور دیتی ہیں۔

ایسے حالات میں کہ جب ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ کشمیر کے بارے میں مذاکرات اور اس مسئلے میں بین الاقوامی اداروں کی مداخلت کو رد کیا ہے، نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات شروع کرنے کا امکان نظر نہیں آتا ہے۔ ہندوستان نے پٹھان کوٹ ایئربیس حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات روک دیے تھے۔ اب جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، بلاشبہ نئی دہلی کا جامع مذاکرات کے بارے میں موقف زیادہ منفی ہو گیا ہے۔

ہندوستان نے پہلے تو پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے اگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور سخت کارروائی شرط لگائی تھی تو اب اس نے ایک اور شرط کا اضافہ کر دیا ہے کہ پاکستان ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے باشندوں کی حمایت ختم کر دے۔