افغان حکومت کے حکام کو انتباہ
ایک ایسے وقت میں کہ جب افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے درمیان اختلافات نے اس ملک کی سیاسی و سیکورٹی صورت حال پر سایہ ڈال رکھا ہے، افغانستان کی سینیٹ کے چیئرمین نے ان اختلافات کو ان کے ذاتی اختلافات قرار دیا اور ان کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
فضل ہادی مسلم یار نے عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی اختلافات کو ختم کر دیں اور گزشتہ برسوں کے دوران حاصل ہونے والے ملت کی کوششوں کے نتائج اور ثمرات کو ضائع نہ کریں۔
انھوں نے نوجوانوں کی پارلیمنٹ کے افتتاح کی تقریب میں اس بات پر زور دیا کہ جن کے ہاتھوں میں ملک کا اقتدار ہے وہ ان نتائج کو ملیامیٹ نہ کر دیں کہ جن کا افغان قوم چالیس برسوں سے انتظار کر رہی تھی۔
افغانستان کے نوجوانوں کی پارلیمنٹ کی افتتاحی تقریب عبداللہ عبداللہ کی موجودگی کے بغیر منعقد ہوئی۔ عبداللہ عبداللہ نے حال ہی میں ایک نشست میں کہا کہ افغانستان کی قومی حکومت ایک سیاسی معاہدے کے تحت تشکیل پائی ہے لیکن صدر نے اس معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے اور وہ اشرف غنی کی جانب سے کی جانے والی تقرریوں سے بےخبر ہیں۔
افغانستان کے صدر نے بھی عبداللہ عبداللہ کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے دھڑے کا کہنا ہے کہ صدر محمد اشرف غنی کے ساتھ ان کے اختلافات نہ صرف ذاتی اور دو طرفہ نہیں ہیں بلکہ ان کا سبب اس معاہدے کو نظرانداز کرنا ہے کہ جسے صدر نے قبول کیا تھا لیکن عمل میں وہ اس پر کوئی یقین نہیں رکھتے ہیں۔
اس معاہدے کے مطابق ملک کے سیاسی اقتدار کو اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں تقسیم ہونا چاہیے اور آئین میں ترمیم اور حکومتی نظام کو صدارتی سے پارلیمانی نظام میں تبدیل کیے جانے کے بعد انھیں افغانستان کا وزیراعظم نامزد کیا جانا چاہیے تھا، لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مقررہ دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود عبداللہ عبداللہ کی نظر میں نہ صرف اشرف غنی اس پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں بلکہ پارلیمنٹ میں ان کا دھڑا انتخابی نظام میں اصلاح سے متعلق بلوں کی منظوری میں اب تک رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
گزشتہ دو سال کے دوران عبداللہ عبداللہ کو امید تھی کہ وہ درپردہ صلاح و مشورہ کر کے اور اشرف غنی اور ان کے دھڑے کی مخالفتوں کو منظرعام پر نہ لا کر ملک کے امور کو آگے لے جائیں گے لیکن ایک طرف معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر ان کے دھڑے کے حالیہ احتجاج اور دوسری جانب اشرف غنی کے دھڑے کی طرف سے عبداللہ عبداللہ کو اقتدار سے باہر نکال کر انھیں حکومت کے مخالف رہنما میں تبدیل کرنے کی کوششوں کے بارے میں پھیلی ہوئی خبروں کی وجہ سے عبداللہ عبداللہ نے سیاسی معاہدے پر عمل درآمد میں اشرف غنی کے تعاون نہ کرنے کے نتائج کے بارے میں خطرے کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں خبردار کیا۔
عبداللہ عبداللہ کے دھڑے کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صدارتی انتخابات میں انھوں نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن مخالفین نے دھاندلی اور ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑ کر کے عبداللہ عبداللہ کی کامیابی کے اعلان کو روک دیا اور آخرکار سیاسی کشمکش کے بعد اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں مداخلت کی اور عبداللہ عبداللہ نے اس شرط پر کہ آئین میں ترمیم کے بعد انھیں افغانستان کے پارلیمانی نظام میں وزیراعظم نامزد کیا جائے گا، قومی حکومت میں چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ قبول کیا۔ اس بنا پر ان کے دھڑے کا یہ خیال ہے کہ حکومت کے اصلی مالک عبداللہ عبداللہ ہیں۔
بہرحال چونکہ کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں پشتون دوسری اقوام اور سیاسی دھڑوں کے اقتدار حاصل کرنے کے مخالف ہیں اس لیے اس وقت سیاسی معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ڈال کر وہ اس بہانے سے کہ معاہدے کی دو سال کی مدت ختم ہو گئی ہے، عبداللہ عبداللہ اور ان کے دھڑے کو اقتدار سے الگ کر دینا چاہتے ہیں۔ یہ ایسی چیز ہیں کہ جس کے افغانستان کی قومی سلامتی اور سیاسی مستقبل کے لیے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔