فلسطین میں قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی
فلسطین کی قومی اور اسلامی پارٹیوں اور گروہوں نے تمام فلسطینیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ جمعرات کو صیہونی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کےساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یوم الغضب منائیں۔
فلسطینی تنظیموں اور گروہوں نے رام اللہ میں اپنی ہفتہ وار میٹنگ کے بعد اپیل کی ہے کہ عوام کو صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف احتجاجی اقدامات تیز کردینے چاہیں اور اسلامی اور عیسائی مقدسات کا دفاع کرنا چاہیے۔ ادھر غزہ میں بھی صیہونی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی حمایت میں ایک اجتماع ہوا ہے۔ یہ اجتماع عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور تحریک احرار کی اپیل پر ہوا تھا اور اس میں صیہونی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں بالخصوص بلال کاید کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اس اجتماع میں فلسطینی گروہوں نے صیہونی جیل سے ان قیدیوں کو رہائی دلانے کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا کہ عالمی برادری کو جارح صیہونی حکومت پر دباؤڈالناچاہیے۔ عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کی مرکزی کمیٹی کے رکن حسین الجمال نے کہا کہ جارحین کے لئے آج ہمارا پیغام یہ ہے کہ بلال کاید اور دیگر فلسطینی قیدی صیہونیوں کے مقابلے میں تنہا نہیں ہیں۔ تحریک حماس کے ایک رہنما اسماعیل رضوان نے کہا کہ ہم سب بلال کاید کی رہائی اور بھوک ہڑتال کرنے والے دیگر قیدیوں کی رہائی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی قومی مسئلہ ہے اور فلسطینی قوم اور تمام گروہ اس کے بارے میں ایک نظررکھتے ہیں۔
واضح رہے چونتیس سالہ فلسطینی اسیر بلال کاید کو صیہونیوں نے دوہزار ایک میں گرفتار کیا تھا، پندرہ برس قید میں رہنے کےبعد اس سال جون میں ان کی سزا ختم ہوگئی تھی لیکن صیہونی حکومت نے بغیر کوئی وجہ بتائے دوبارہ ان کی مدت اسارت میں چھے ماہ کی توسیع کردی۔
فلسطینی قیدیوں کی حامی تنظیم صامدون اور قیدیوں کے حقوق کی حمایت اور انسانی حقوق کی تنظیم ضمیر نے اعلان کیا ہے کہ یورپ کی ایک پارلیمانی کمیٹی بلال کاید کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کی غرض سے رام اللہ پہنچی ہے۔ بلال کاید اپنی دوبارہ گرفتاری پر دو مہینوں سے بھوک ہڑتال پرہیں۔ جو یورپی پارلیمانی کمیٹی رام اللہ پہنچی ہے اس میں شمالی آئیرلینڈ کے سابق وزیر قانون اور رکن پارلیمنٹ فرامائکین، آئرلینڈ کی سینیٹ کے رکن پال گاوین، یونان کی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق اسپیکر زوی کوستنتبول اور آئیس لینڈ کی پارلیمنٹ کے رکن اگمودور یوناتان شامل ہیں۔ اس یورپی کمیٹی نے غرب اردن کے مختلف علاقوں میں بلال کاید اور دیگر فلسطینی قیدیوں کی حمایت میں دھرنا دینے کے لئے لگائے گئے کیمپوں کا دورہ کیا۔اس کمیٹی نے بلال کاید کی والدہ اور انکے اھل خانہ سے بھی نابلس میں ملاقات کی۔ صامدون تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دنوں اور ہفتوں میں مختلف پارلیمانی اور قانونی ماہرین کی کمیٹیاں سویڈن، سوئزرلینڈ، فرانس، بلجیم اور ڈنمارک سے یہاں آئیں گی۔ یورپی یونین کی کمیٹی فلسطینی شہدا کے جنازوں کو واپس لانے کے لئے کام کرنے والی تنظیم، صیہونی حکومت کے بائیکاٹ کی عالمی تنظیم اور دیگر فلسطینی تنظیموں سے ملاقات کرے گی۔ خبری ذرایع نے اعلان کیا ہے کہ یورپی پارلیمانی کمیٹی فلسطین سے واپس جانے سے پہلے دھرنا دینے والوں کے ایک خیمے میں پریس کانفرنس کرے گی اور اس طرح بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے گی۔