افغانستان: طالبان کا بڑھتا ہوا تشدد
افغانستان میں حالیہ دنوں میں طالبان گروہ نے مختلف علاقوں بالخصوص دارالحکومت کابل میں اپنے حملے تیز کردئے ہیں۔ طالبان گروہ نے ایک بیان جاری کرکے کابل میں امریکی سفارتخانے کے پاس ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
طالبان گروہ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی صوبے نورستان کے شہر وانت وایگل کی تمام سکیورٹی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ادھرجنوب مغربی صوبہ نیمروز کے مقامی حکام نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر شہر خاشرود سقوط کرسکتا ہے۔اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق دوہزار سولہ کے پہلے چھے مہینوں میں طالبان کے حملوں میں ایک ہزار سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ طالبان گروہ جو کسی زمانے میں محض جنوب اور جنوب مشرقی علاقوں میں سرگرم عمل تھا اب اس نے اپنی سرگرمیاں مغرب اور شمال میں بھی بڑھا دی ہیں اور اس طرح علاقائی اور عالمی حلقوں کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہا ہے۔ طالبان گروہ ایسے عالم میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں حملے جاری رکھے ہوئے کہ اس گروہ کے سرغنے ملا ہیبۃ اللہ فوجی شخصیت ہونے سے زیادہ مذہبی شخصیت ہیں اسی وجہ سے افغان عوام ان سے یہ توقع کررہے تھے کہ وہ اپنے گروہ کو عوام کے قتل عام سے روکیں گے۔ لیکن طالبان گروہ نے افغانستان کے بڑے شہروں بالخصوص کابل میں حملے اور خونریز بم دھماکے کرنے اور شہروں، دیہی علاقوں اور فوج کی چوکیوں پر قبضہ کرنے کی اسٹراٹیجی بھر پور طرح سے جاری رکھی ہے۔ درحقیقت طالبان گروہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ افغان فوج اور بیرونی افواج کے مقابل طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے مناسب فوجی پوزیشن میں ہے۔ کہا جارہا ہےکہ طالبان گروہ اپنا ہیڈ کوارٹر پاکستان سے صوبہ ہلمند منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس کے یہ معنی ہونگے کہ پاکستان نے مغرب کے دباؤ میں آ کر طالبان سے کہا ہوگا کہ وہ پاکستان سے نکل کر افغانستان میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنائے۔صوبہ ہلمند جس میں افغانستان کی نوے فیصد خشخاش اگائی جاتی ہے اور یہاں سے دیگر علاقوں میں بھیجی جاتی ہے اس پر طالبان کی نظریں ہیں تا کہ اس صوبے پر قبضہ کرکے منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے اپنی آمدنی یقینی بناسکے۔ افغانستان کے بعض سیاسی اور اقتصادی حلقوں کا خیال ہے کہ طالبان گروہ کواس کو جنم دینے والوں یعنی پاکستان اور بعض عرب ملکوں یہانتک کہ امریکہ کی جانب سے ہر طرح کی امداد ملتی ہے اور اب وہ ہلمند پر قبضہ کرکے یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ افغانستان میں مناسب سیاسی اور اقتصادی پوزیشن کا حامل بن چکا ہے۔
ہرچند امریکہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ طالبان کو نشانہ بنائے گا اور صدر باراک اوباما نے امریکی فوجیوں کو طالبان کے خلاف کاروائیوں میں شریک ہونے کا حکم جاری کیا ہے لیکن سیاسی اور سکیورٹی حلقوں کے مطابق طالبان کی پیش قدمی اور خونریز حملے افغانستان میں پہلے سے تیار شدہ پروگرام پرعمل درآمد کی نشاندہی کرتا ہے۔ ممکن ہے امریکہ اس پروگرام کی ھدایت کررہاہو۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ افغانستان میں مختلف حلقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ کابل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے مطابق طالبان کی پیش قدمی کوروکے۔ بہرحال سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ سیاسی بحران جو صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکیٹیو عبداللہ عبداللہ کے اختلافات کے سرعام آنے کے بعد شدید ہوتا جارہا ہے اس سے طالبان ہی کی پوزیشن بہتر ہورہی ہے اور اس سے طالبان گروہ حملوں میں تیزی لانے میں فائدہ اٹھارہا ہے کیونکہ افغانستان میں سیاسی بحران سے جس کو فائدہ ہورہا ہے وہ طالبان ہے کیونکہ طالبان گروہ بھی یہ نعرے لگا کر کہ بحران سے عوام کی مشکلات کو حل نہیں کیا جاسکتا اپنی ساکھ کو سدھار رہا ہے۔