دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں پاکستانی حکومت کی کارکردگی پر تنقید
ایک ایسے وقت میں کہ جب دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان کی شیعہ برادری کو لاحق خطرہ بدستور موجود ہے، شیعہ کانفرنس بلوچستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں نواز شریف حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
شیعہ کانفرنس بلوچستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر پاکستان شروع سے ہی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کا مقابلہ کرتا اور دہشت گردوں کو ختم کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا تو اس وقت پاکستانی قوم کی سیکورٹی کی حالت بہتر ہوتی۔
شیعہ کانفرنس بلوچستان اس سے پہلے بھی کئی بار ملک میں دہشت گردانہ حملے جاری رہنے کے نتائج کے بارے میں خبردار کر چکی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جییسے جانے پہچانے دہشت گرد گروہوں نے پاکستان میں شیعہ برادری کو اپنے منصوبہ بند حملوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان اور اب داعش کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے مختلف ادارے ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے نتائج پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ حکومت پاکستان کو دوغلی پالیسی ترک کر کے تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف سنجیدہ اور ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری جنرل علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے بھی حال ہی میں تقریبا تین مہینے تک اسلام آباد میں بھوک ہڑتال کیے رکھی تاکہ پاکستان کی حکومت اور فوج کو شیعہ برادری کی مشکلات اور مصائب کی طرف متوجہ کر سکیں۔
پاکستان کے سیاسی حلقوں کے نقطۂ نظر سے ملک میں بیس ہزار سے زائد دینی مدرسوں کی موجودگی کہ جن میں سے بہت سے وہابیوں کے زیرانتظام ہیں اور وہاں تفرقے اور تشدد کی تعلیم دی جاتی ہے، پاکستان میں شیعوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کا اصلی سبب سمجھی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہابیوں کے زیرانتظام جو دینی مدرسے ہیں ان کے پاس یا تو عسکری گروہ ہیں یا وہ دوسرے عسکری، تشدد پسند اور انتہاپسند گروہوں کے لیے افراد تیار کرتے ہیں۔ پاکستان میں وہابیوں کے زیرانتظام مدارس میں وہابیت کی غلط تعلیمات کی بنیاد پر شیعوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے فرقہ وارانہ کارروائیوں کو ہوا دی جاتی ہے۔ اسی بنا پر پاکستان میں دہشت گرد اور فرقہ پرست گروہوں کی سرگرمیاں بڑھنے پر بلوچستان کے شیعوں نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کوئٹہ کے سول اسپتال پر حالیہ حملے نے کہ جس میں خاص طور پر وکلا کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں ستر سے زائد افراد جاں بحق اور دسیوں زخمی ہو گئے، ظاہر کر دیا کہ دہشت گرد اس قسم کے مقامات پر حملے کر کے لوگوں میں خوف و دہشت پیدا کرنا اور ملک میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔
مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبدالرحیم رحیمی اور مولانا عطاءالرحمن سمیت پاکستان کے علما کی ایک بڑی تعداد نے کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جو لوگ اسلام کے نام پر لوگوں کا قتل عام کر رہے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ پاکستان کے علما کا خیال ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نہیں چاہتے کہ اسلام سائنسی و اقتصادی لحاظ سے ترقی کرے۔ اس لیے وہ دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے مسلمانوں کی ترقی و پیشرفت کو روکنا چاہتے ہیں۔