پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ہندوستان کی مشروط موافقت
ایسے میں جبکہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال بدستور بحرانی ہے اور عوامی احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان کے اخبار ڈان نے لکھا ہےکہ ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی دعوت قبول کرلی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ کشمیر کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور دیگر مسائل پر بھی بات ہونی چاہیے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں تعینات ہندوستانی ہائی کمشنر "گوتم بمباوالا" نے، پاکستانی دفتر خارجہ میں ہندوستانی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر کا خط، قائم مقام پاکستانی سیکریٹری خارجہ وحید الحسن کو دیا۔
یہ خط پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی جانب سے ایس جے شنکر کے نام لکھے جانےوالے خط کا جواب ہے جس میں انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔
ہندوستان مذاکرات کیلئے اپنے سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر کو پاکستان بھیجنے کا خواہاں ہے تاہم نئی دہلی کا خیال ہے کہ اس دورے میں کشمیر کے علاوہ سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی سے نمٹنے پر بھی بات ہونی چاہئے – نئی دہی کا دعوی ہے کہ پاکستان بعض دہشت گرد گروہوں کو ہندوستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے استعمال کر رہا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے خط میں تاکیدکی گئی تھی کہ اسلام آباد اقوام متحدہ کی سلامتی کی قرارداد کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کے حل کے مقصد سے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے-
اسلام آباد کا خیال ہے کہ کشمیر میں ریفرنڈم کے ذریعے اس علاقے کے عوام کے ہاتھوں ان کے تقدیر کے فیصلے کی ضرورت پر مبنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد ہی ، کشمیر کے مسئلے کےحل کا واحد راستہ ہے-
پاکستان ایسے میں مسئلہ کشمیر کے حل کو جلد از جلد حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے کہ بدامنی اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی احتجاج بدستور جاری ہے اور حالیہ ایک میہنے میں دسیوں افراد ہندوستان کی سیکورٹی فورسیز کے ہاتھوں جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں-
سیاسی مبصرین کے نقطۂ نگاہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں مذاکرات کے لئے پاکستان کی در خواست پر ہندوستان کی مشروط موافقت، اسے بظاہر مسترد کرنے کے مترادف ہے- کیوں کہ حکومت ہندوستان اس علاقے کو اپنا ایک اٹوٹ انگ قرار دیتی ہے اور اس نے یہ بھی اعلان کیا ہےکہ کشمیر کے مسائل کو اس ملک کے بنیادی آئین کے مطابق حل ہونا چاہئے- اس بناء پر تجزیہ نگاروں کے نقطہ نگاہ سے پاکستانی فریق کے ساتھ مذاکرات پر موافقت سے ہندوستان کا اصلی مقصد، اسلام آباد پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرنے کی ایک کوشش ہے اور یہ وہی چیز ہے جسے نئی دہلی، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے مسلح افراد کی دراندازی قرار دیتا ہے- اس درمیان، ہندوستان، کشمیر کے مسئلے میں داخلی اور علاقائی سطح پر پڑنے والے دباؤ کو بھی کم کرنا چاہتا ہے-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسلام آباد کشمیر کے مسئلےمیں ہر قسم کی مداخلت کو مسترد کرتا ہےاور صرف اس علاقے کے عوام کی اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے- لیکن ہندوستان کے نقطہ نگاہ سے پاکستان، کشمیر سمیت علاقے میں دہشت گردانہ حملوں کا ذمہ دار ہے اور اسے نئی دہلی کے مطالبات اور سوالات کا جواب دہ ہونا چاہئے- لیکن پاکستان کاکہنا ہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کی جدوجہد اس لئے ہے کہ کیوں کہ وہ ہندوستان سے آزادی چاہتے ہیں-
علاقے اور اسی طرح ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پائے جانے والے گہرے اختلاف نظر کے پیش نظر، ایسا خیال نہیں کیا جاتا کہ حکومت اسلام آباد، ہندوستان کے ساتھ مشروط مذاکرات کی موافقت کرے گی-
پاکستان کا خیال ہے کہ کشمیر کو 1947 کی تقسیم کے منصوبے کی بنیاد پر پاکستان کا ایک مسلم آبادی والا علاقہ ہونا چاہئے تھا لیکن ہندوستان نے برطانیہ کی سازش سے اس علاقے پر قبضہ جمالیا اور اس تقسیم کی راہ میں رکاوٹ بن گیا –
اس وقت بھی پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر، جو کشمیر کی سرنوشت کے تعین کے لئے ہندوستان اور پاکستان کی جنگوں کے بعد جاری کی گئی ، تاکید کرتا ہے- اور حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ایک خط ارسال کرکے اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے-
بہرحال کشمیر کا مسئلہ 1947 سے ہندوستان و پاکستان کے تعلقات پر سایہ افگن ہے اور ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں فروغ کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ دونوں ملک جدید ترین میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس ہیں جس کے سبب علاقے کے عوام کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ چھڑ جانے سے تشویش لاحق رہتی ہے-