عراق کی نئی کابینہ کی ترجیحات
عراق کی نئی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا اور کابینہ نے داعش کے دہشت گردوں اور بدعنوانی سے مقابلے اور بجٹ کی صورت حال واضح کئے جانے کو اپنی ترجیحات میں قرار دیا۔
عراق اس وقت اہم اور حساس دور سے گزر رہا ہے۔ ایسا دور جو سنہ 2003 میں عراق کے خلاف امریکی جنگ کے دور سے بھی زیادہ اہم اور حساس ہے جبکہ عراق کی ارضی سالمیت کو گزشتہ دو سال سے اب تک سنگین خطرہ لاحق ہے۔ داعش گروہ کے دہشت گردوں نے عراق کے بہت سے علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا، حکومت تشکیل دی اور اپنے زیرقبضہ علاقوں کے لوگوں پر غلبہ حاصل کرلیا جس کے نتیجے میں لاکھوں عراقی اپنے ملک اور بیرون ملک بے گھر ہوگئے۔ عراق میں روزانہ دسیوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو رہے ہیں، بنیادی شہری تنصیبات تباہ ہوچکی ہیں اور دسیوں ہزار بچے یتیم ہوگئے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر حیدرالعبادی کی حکومت نے، خاص طور سے سنہ 2015 کے نصف دوم سے داعش کے دہشت گردوں کے خلاف سنجیدہ اور ٹھوس کارروائی کی ہے اور عراق کے مغربی صوبہ الانبار کے بہت سے علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس وقت جبکہ حکومت عراق داعش کے دہشت گردوں کے زیرقبضہ اہم ترین شہر موصل کی آزادی کی کارروائی جاری رکھے ہوئے وزیر اعظم حیدرالعبادی نے نئے وزیروں کے ساتھ کابینہ کے پہلے اجلاس میں تاکید کے ساتھ کہا کہ رواں سال کے آخر تک عراق کے تمام علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرالیا جائے گا۔
بدعنوانی سے مقابلہ بھی عراق کی نئی کابینہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ درحقیقت، عراق میں گزشتہ ایک سال کے دوران بدعنوانی سے مقابلے کے لئے عوامی احتجاجی مظاہروں کا انعقاد بھی عراق کے سیاسی حالات کی ابتری کا نقطۂ آغاز تھا۔ بدعنوانی عراق کے اکثر سرکاری شعبوں میں سرایت کر چکی ہے۔ بعض کمپنیوں نے عراق کے مالی ذرائع کے بڑے حصے کو جعلی ٹینڈرز کے ذریعے خود سے مخصوص کرلیا ہے۔ اس ملک کے بعض حکام دفتری ڈھانچے میں اثر ورسوخ کے سبب پروجیکٹوں کے لئے مالی ذخائر حاصل کرتے تھے کہ جن میں سے بہت سے پروجیکٹس فرضی ہوتے تھے اور ان کا کوئی خارجی وجود نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ بعض ادارے اپنے ان ملازمین کو تنخواہیں دیتے ہیں جو مہینوں سے کام پر آئے ہی نہیں ہیں البتہ یہ ساری بدعنوانیاں ان افراد کے ذریعے انجام پارہی ہیں جو عراق کے حکومتی ڈھانچے میں رسوخ پیدا کرچکے ہیں۔ اس طرح سے عوام اور بعض سیاسی گروپ عراق میں بدعنوانی کے خلاف سنجیدہ جدوجہد کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بدعنوانی کے خلاف حکومت کی جدوجہد کے مقابلے میں بعض شعبوں میں افراد اور فائدہ اٹھانے والے اداروں کی مخالفت کچھ اتنی زیادہ ہے کہ جس نے حکومت کو بہت زیادہ مشکلات و مسائل سے دوچار کردیا ہے۔
عراق کی نئی کابینہ کی ترجیحات میں سے ایک اس ملک کے بجٹ کی صورتحال کا تعین ہے۔ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے بقول کابینہ نے 2017 کا بیاسی ارب ڈالر کے بجٹ کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ بلا شبہ مختلف شعبوں میں بجٹ کی تقسیم کا طریقۂ کار ایک ایسا اہم مسئلہ ہے کہ عراق کی نئی کابینہ کو اس بارے میں مزید حساسیت کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔