ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں توسیع کی خواہش کا اظہار
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i243736-ایران_کے_ساتھ_دو_طرفہ_تعلقات_میں_توسیع_کی_خواہش_کا_اظہار
کویت کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں توسیع کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے ایرانوفوبیا پھیلائے جانے کے دوران یہ خبر بالکل مختلف طرح کی لگتی ہے۔ البتہ اس سے قبل بھی ایران کے ہمسایہ عرب ممالک کی جانب سے اس طرح کے بیانات منظر عام پر آچکے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۴:۰۴ Asia/Tehran
  • ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں توسیع کی خواہش کا اظہار

کویت کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں توسیع کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے ایرانوفوبیا پھیلائے جانے کے دوران یہ خبر بالکل مختلف طرح کی لگتی ہے۔ البتہ اس سے قبل بھی ایران کے ہمسایہ عرب ممالک کی جانب سے اس طرح کے بیانات منظر عام پر آچکے ہیں۔

کویت کی پارلیمنٹ کے اسپیکر مرزوق علی الغانم نے جمعرات کے دن قطر سے شائع ہونے والے اخبار الشرق کے ساتھ انٹرویو کے دوران اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ ایران اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک ایک دوسرے کے شریک ہیں، ایران کے ساتھ کویت اور خلیج فارس تعاون کونسل کے دوسرے رکن ممالک کے تعلقات کی تقویت کا راستہ ہموار کرنے کے لئے ضروری اقدامات انجام دیئے جانے پر تاکید کی۔

مرزوق علی الغانم نے خطے کے حالات میں ایران کے اہم کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کویت اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک ہمیشہ خطے میں قیام امن و استحکام کی تقویت اور تہران کے ساتھ اچھے تعلقات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

کویت کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت اور ان کی مدد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ مسئلہ فلسطین کو عرب ممالک کے نزدیک ایک بہت اہم مسئلے کے طور پر مدنظر رکھا جانا چاہئے۔

کویت کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے شام کے بحران کے پرامن حل کے بارے میں بھی کہا کہ کویت شام میں جھڑپوں کے خاتمے اور اس بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔

ایران کی جانب سے ان بیانات پر رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کویت کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مثبت رویئے کے بارے میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کرنے کی بنیاد پر استوار ہے۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ ایران اپنی اس مستقل، اصولی اور ناقابل تبدیل  پالیسی کی بنیاد پر ہمیشہ ہمسایہ ممالک میں قیام امن ، استحکام اور ان کی ترقی و پیشرفت کا خواہاں رہا ہے اور وہ نیک نیتی کے ساتھ کی جانے والی ہر کوشش اور اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ تیسرے فریق کی اشتعال انگیز اور غیر مفید پالیسیاں دوستانہ تعلقات کی برقراری اور خطے کی اقوام کی دوستی میں اضافے اور مفادات کے حصول سے متعلق حکومتوں کے ارادے پر منفی اثرات مرتب نہیں کریں گی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ خلیج فارس کے تمام ساحلی ممالک کے مفادات مشترکہ ہیں لیکن اس نظریئے کو صرف تسلیم کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ اختلافات پھیلانے والی پالیسیوں سے دور رہ کر عملی طور پر اقدامات انجام دیئے جائیں لیکن سعودی عرب اس وقت اختلافات پھیلانے والی پالیسیوں کو اختیار کئے ہوئے ہے۔

سعودی عرب کی پالیسیوں کی ماہیت خطے کے بہت سے ممالک پر اب واضح ہوچکی ہے۔ سعودی عرب ایسے نئے اتحادی بنانے کے چکر میں ہے جو یمن کے خلاف جنگ یمن سمیت اس کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی حمایت کریں اور یمن میں اس کے جرم میں برابر کے شریک ہوں۔ لیکن کویت جیسے ممالک کو سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اب تک کا جو نتیجہ حاصل ہوا ہے اس سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران سعودی عرب اور کویت کی جانب سے صدام حکومت کی حمایت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ آخر کار صدام نے کویت پر قبضہ کر لیا۔ اب سعودی عرب خطے میں صدام کی جنون آمیز پالیسیوں کو اختیار کئے ہوئے ہے اور اسے اسرائیل کی حمایت حاصل ہے حالانکہ اسرائیل ملت اسلامیہ کا مشترکہ دشمن ہے۔خطے کے عرب ممالک نے اوپیک میں تیل  سے متعلق سعودی عرب کی تباہ کن پالیسیوں کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں تیل کی قیمت میں شدید کمی واقع ہوئی۔ اس طرح سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد اتحاد تشکیل دیا گیا جس کی وجہ سے خطے کے عرب ممالک کو غیر ضروری فوجی اخراجات اٹھانا پڑے۔ موجودہ صورتحال میں شاید خلیج فارس میں ایران کے ہمسایہ ممالک بعض وجوہات کی بنا پر سعودی عرب کے ساتھ اپنے تمام اختلافات زبان پر نہ لائیں لیکن سعودی عرب کے غیر منطقی رویئے کے بارے میں ان کی تشویش پوری طرح واضح ہے۔ کویت کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بیانات نیز ایران کے ساتھ تعاون اور پر امن بقائے باہمی نیز امن و امان کا ماحول پیدا کرنے سے متعلق خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے حکام کے رجحان کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہئے۔

البتہ سعودی حکام کی نظر میں اس طرح کے بیانات خطے میں سعودی عرب کے اسٹریٹیجک پارٹنروں کی جانب سے اس کی کھینچی ہوئی ریڈ لائنوں کو عبور کرنے کے مترادف ہیں۔