بان کی مون کی جانب سے پاکستان اور ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i243742-بان_کی_مون_کی_جانب_سے_پاکستان_اور_ہندوستان_کو_مذاکرات_کی_دعوت
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور ہندوستان کو ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۴:۴۵ Asia/Tehran
  • بان کی مون کی جانب سے پاکستان اور ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور ہندوستان کو ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

بان کی مون نے پاکستان اور ہندوستان سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر سمیت اپنے تمام متنازعہ مسائل کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کریں۔ حال ہی میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ سے اپیل کی تھی کہ وہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بحران اور خونریز تشدد کا سلسلہ ختم کرانے کے لئے اقدام کرے۔ نواز شریف نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔ پاکستان نے بھی حال ہی میں ہندوستان کو کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کے اظہار رائے یا اس کی دخل اندازی کے بارے میں پاکستان اور ہندوستان کے مواقف مختلف ہیں۔ ہندوستان مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر اجاگر کئے جانے اور اس مسئلے میں اقوام متحدہ کی دخل اندازی کے خلاف ہے اور اس نے بارہا پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے سے باز رہے۔ ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے اور وہ مسئلہ کشمیر کو اپنے آئین کے دائرے میں حل کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب پاکستان اور کشمیری گروہ کشمیر کی ملکیت کو متنازعہ معاملہ جانتے ہیں۔ اور ان کا موقف ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی اور پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہئے۔

پاکستان نے اس سلسلے میں دو راہ ہائے حل پیش کئے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان، ہندوستان اور کشمیری عوام کے نمائندوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات انجام دیئے جائیں اور دوسرے یہ کہ کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر ریفرینڈم کرایا جائے جس میں کشمیری عوام حصہ لیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر دو بار جنگ ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد جاری کر کے کہا ہے کہ کشمیر میں ریفرینڈم ہونا چاہئے جس میں کشمیری عوام اس بات کا فیصلہ کریں کہ وہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنا چاہتے ہیں یا ہندوستان میں۔

جبکہ ہندوستان نے یہ قرارداد مسترد کر دی ہے اور وہ اپنے زیر انتظام کشمیر اور چین کے زیر انتظام کشمیر کو اپنی سرزمین میں شامل کرنے پر اصرار کرتا رہتا ہے۔ اسلام آباد حکومت کے زاویہ نگاہ کے مطابق بان کی مون کی جانب سے پاکستان اور ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں کوئي مدد نہیں ملے گي کیونکہ ہندوستان مسئلہ کشمیر کے ہر طرح کے حل کا مخالف ہے۔ بنابریں اسلام آباد کے نزدیک اقوام متحدہ کو کشمیر کی تقدیر کے فیصلے کے لئے ریفرینڈم کرانے کے سلسلے میں ہندوستان پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات تقریبا سات عشروں سے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے کشیدہ چلے آر ہے ہیں۔ بہرحال پاکستان کے سیاسی مبصرین دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگي جاری رہنے کے منفی نتائج کے پیش نظر اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو  کشمیری عوام کی تقدیر کے فیصلے کے لئے ریفرینڈم کرانے کے سلسلے میں  پوری سنجیدگي کا مظاہرہ کرنا اور ہندوستان پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔ مسئلہ کشمیر حل ہونے کی صورت میں ہی پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کی تقویت اور جنوبی ایشیا میں قیام امن کی امید رکھی جا سکتی ہے۔