وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا دورہ لاطینی امریکہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کی صبح ایک سیاسی اقتصادی وفد کےساتھ لاطینی امریکہ کا دورہ شروع کیا۔
محمد جواد ظریف لاطینی امریکہ کے چھ ممالک کا دورہ کر رہے ہیں ۔ اس دورے کا مقصد مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد ان چھ ممالک کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں توسیع لانا بتایا گیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا یہ دورہ ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔ اس دورے میں ساٹھ سے زیادہ تاجر اور مختلف پرائیویٹ کمپنیوں کے مالک وزیر خارجہ کے ساتھ لاطینی امریکہ گئے ہیں۔ جواد ظریف کا یہ دورہ کیوبا کے دارالحکومت ہوانا سے شروع ہوا ہے۔ وہ کیوبا کے بعد نیکارا گوئے، ایکواڈور، چلی، بولیویا اور وینیزویلا جائیں گے۔ لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توسیع لانا اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی میں شامل ہے۔ ایران اور لاطینی امریکہ کے ممالک کی قربت کی ایک وجہ مشترکہ انقلابی اور سامراج مخالف تاریخ ہے۔ لاطینی امریکہ بہت زیادہ انقلابی اور عوامی تحریکوں کا گہوارہ رہا ہے۔
ایران اور لاطینی امریکہ کے ممالک کی سامراج مخالف اور انقلابی تاریخ کے علاوہ ان تعلقات میں توسیع کا ایک محرک اقتصادی بھی ہے۔ ایران اور لاطینی امریکہ کے درمیان بہت زیادہ جغرافیائی فاصلے کے باوجود لاطینی امریکہ میں ایران کو ایک بڑے، متمدن ، امن پسند اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے والے ملک کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ لاطینی امریکہ کے بہت سے دانشمند اور سیاسی شخصیات ایران کو مشرق وسطی کے اہم جیو پولیٹیکل علاقے خصوصا خلیج فارس میں ایک موثر ملک سمجھتی ہیں۔
ایران اور اس خطے کے ممالک گزشتہ تین عشروں سے بنیادی تعلقات میں توسیع کے خواہاں رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی ، سیاسی اور ثقافتی میدانوں میں تعلقات میں توسیع کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
موجودہ عالمی حالات اور اہم مسائل کےسلسلے میں باہمی تعاون کی ضرورت کے پیش نظر میں ایرانی وزیر خارجہ کا لاطینی امریکہ کا دورہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔
ایران اور لاطینی امریکہ کے ممالک اقوام متحدہ، ناوابستہ ممالک کی تحریک ، گروپ ستتر اور دوسری اہم عالمی تنظیموں کے رکن ہیں جس کی وجہ سے ایران اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے درمیان سیاسی میدانوں اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کا راستہ ہموار ہے۔ ناوابستہ ممالک کی تنظیم کی صدارت کی ایران سے وینیزویلا کو منتقلی، دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل میں باہمی تعاون کی تقویت اور ستمبر کے مہینے میں ہونے والے اجلاس سے قبل اوپیک میں تیل سے متعلق پالیسیوں کے سلسلے میں وینیزویلا کے ساتھ ہم آہنگي ایسے موضوعات ہیں جو اس دورے کے دوران ایرانی سفارت کاری میں مدنظر رکھے گئے ہیں۔
کیوبا، نیکارا گوئے، ایکواڈور، چلی، بولیویا اور وینیزویلا کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں اور مذاکرات اور پرائیویٹ سیکٹروں کے اقتصادی سیمیناروں کا انعقاد بھی وزیر خارجہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ ان تمام امور کے پیش نظر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور ان ممالک کے درمیان طویل فاصلے کے باوجود مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ لاطینی امریکہ کے تیس ممالک ہیں جن کی آبادی چھ سو ملین نفوس پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے ان ممالک میں بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ یہ ممالک عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے اور اقوام متحدہ میں فیصلہ سازی کے عمل میں اہم اور موثر کردار کے حامل ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران جن اہم اور بڑے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے ان میں سے ایک عالمی اور علاقائی سطح پر خطرات میں کمی لانا اور سیکورٹی سے متعلق مسائل میں باہمی تعاون کو تقویت پہنچانا ہے۔ اس زاویۂ نگاہ کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ ایران کے اشتراک عمل کے باعث فریقین کے لئے بہت اچھا موقع پیدا ہوگيا ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایک نیا اور مناسب ماحول پیدا ہوا ہے ۔ اس لئے اس دورے کے دوران سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات میں توسیع کے لئے اٹھایا جانے والا ہر قدم مشترکہ مفادات کے حصول کی ضمانت ثابت ہوگا اور اس سے زیادہ اور مختلف طرح کے باہمی تعاون کی راہیں کھل جائیں گی جس سے ایران اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو طویل المیعاد اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گي۔