ہلمند میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی
افغانستان کے صوبہ ہلمند کے گورنر عمرزواک نے اس صوبہ کے صدر مقام میں تازہ دم امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی خبر دی ہے
صوبہ ہلمند کے گورنر عمر زواک نے اعلان کیا ہے کہ اس صوبے کے صدر مقام کے قریب واقع بست ہوائی اڈے پر غیر ملکی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد تعینات ہوگئی ہے- ایسے عالم میں جب طالبان نے صوبہ ہلمند پر قبضے کے لئے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں ، امریکی فوجی ، افغان فوج کی مدد اور اسے سقوط سے بچانے کے لئے ہلمند بھیجے گئے ہیں- افغانستان میں نوے فیصد منشیات کی کاشت صوبہ ہلمند میں ہوتی ہے اورایسا نظرآتا ہے کہ طالبان کی کوشش ہے کہ وہ صوبہ ہلمند پر قبضہ کرکے ایک طرف قابل اطمینان مالی ذرائع تک رسکائی حاصل کرلے اوردوسری جانب اپنی کوئٹہ کونسل کو پاکستان سے ہلمند منتقل کردے- طالبان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنگ ہے اور اسی وجہ سے گذشتہ برسوں میں افغانستان میں تریاک کی کاشت اور منشیات کی پیداوار میں کافی اضافہ ہوا ہے - اس کے باوجود سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا نظر نہیں آتا کہ امریکہ کو صوبہ ہلمند کے سقوط کی فکر ہوگی اور اس نے اس بنا پر تازہ دم فوجی اس صوبے میں بھیجے ہوں گے - کیونکہ صوبہ ہلمند کی صوبائی کونسل کے نائب سربراہ عبدالمجید آخوندزادہ کے بقول امریکی فوجی اس سے پہلے بھی صوبہ ہلمند کے دو فوجی اڈوں پر تعینات ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی طالبان نے ضلع نوزاد اور موسی قلعہ پر قبضہ کر لیا تھا- اسی بنا پر انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی صوبہ ہلمند کی سیکورٹی میں کوئی خاص مدد نہیں کرے گی- اس بنا پر ہلمند کی صوبائی کونسل کے نائب سربراہ کی نظر میں افغان سیکورٹی اہلکاروں کی قیادت اور انتظامات میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سیکورٹی مسائل کا سامنا کر سکیں- امریکہ نے تقریبا تیرہ سال پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے نیٹو کے ساتھ مل کرافغانستان میں ایک لاکھ فوجی تعینات کئے تھے تاہم عملی طور پراس ملک سے نہ صرف یہ کہ دہشت گردی اور تشدد پسندی کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اس وقت افغانستان کو بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور تشدد کا سامنا ہے- بنا برایں سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی پالیسی اور مقصد، دہشت گردی اور تشدد کا مقابلہ کرنا نہیں رہا ہے- کیونکہ دہشت گرد ، افغانستان سمیت مختلف علاقوں میں امریکہ کے اہداف اور منصوبوں کو آگے بڑھانے کا ہتھکنڈہ ہیں - اس بنا پر امریکہ کا مقصد اس ملک میں اپنی فوجی موجودگی جاری رکھنے کی توجیہ کے لئے افغانستان میں بدامنی اور بحران کو اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے- امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی کے اس بیان کا کہ واشنگٹن کے لئے افغانستان کے آئندہ کے حالات اہمیت نہیں رکتھے ، کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ ، افغان عوام کی سیکورٹی کے لئے فوجی کارروائیاں کرے گا- کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو امریکہ ، بدامنی کا مقابلہ کرنے کے لئے افغان حکومت کے ساتھ سیکورٹی معاہدے پر عمل کرتا- بنا برایں سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ طالبان اور داعش دہشت گرد گروہ کے حملوں میں شدت آنے کے بہانے اس ملک میں اپنے فوجیوں کو واپس لانے اور انھیں پورے ملک میں تعینات کرنے کی کوشش کررہا ہے - امریکہ کی اس پالیسی کا طویل مدت منصوبہ افغانستان میں انتہاپسند اور تشدد پسند گروہوں کو مضبوط کرنا اور انھیں وسطی ایشیا اور قفقاز کے علاقوں کی جانب بھیجنا ہے - انھیں وجوہات کی بنا پر چین اورروس نے افغانستان میں امریکہ کی عسکریت پسندی کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے-