عراقی فوج کی مسلسل کامیابیاں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i244186-عراقی_فوج_کی_مسلسل_کامیابیاں
عراق کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اپنے ملک کے مزید مغربی علاقے دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۲, ۲۰۱۶ ۱۴:۱۶ Asia/Tehran
  • عراقی فوج کی مسلسل کامیابیاں

عراق کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اپنے ملک کے مزید مغربی علاقے دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لئے ہیں۔

عراق کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے مغربی عراق میں واقع صوبہ الانبار میں آپریشن جاری رکھتے ہوئے جزیرہ الخالدیہ کے بجلی گھر کو دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔ داعش کے عناصر نے اس بجلی گھر کو اپنی پناہ گاہ میں تبدیل کر رکھا تھا۔ عراق کی فوج نے جزیرہ الخالدیہ کے دو اہم علاقوں الکرطان اور البوکنعان کو آزاد کرانے کے لئے بھی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ دونوں علاقے صوبہ الانبار کے شہر الرمادی کے اطراف میں واقع جزیرہ الخالدیہ میں دہشت گرد گروہ داعش کے اہم اڈے شمار ہوتے ہیں۔ عراق سے ملنے والی ایک اور خبر کے مطابق کرکوک میں واقع ایک امام بارگاہ کے پاس ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں اس علاقے کی بعض عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔ اس بم دھماکے میں مارے جانے یا زخمی ہونے والوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ عراق کے دارالحکومت بغداد کے مغرب میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریش میں بھی تین دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں- اس درمیان عراق کی پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن عباس البیاتی نے کہا ہے کہ اگر ایران کی کوششیں، عراق کی مرجعیت کا فتوی اور عوامی رضاکار فورس کا ساتھ نہ ہوتا تو اس ملک پر دہشت گردوں کا قبضہ ہو جاتا۔ عباس البیاتی نے کہا ہے کہ عراقی وفد کا دورۂ تہران بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس دورے کا مقصد دہشت گردی کے مقابلے کی نوعیت اور دہشت گرد گروہ داعش کی شکست کے بعد عراق کی تعمیرنو کے بارے میں ایرانی حکام کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنا قرار دیا۔ عباس البیاتی نے، جو عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری کے ساتھ ایران کے دورے پر ہیں، ایران کو ایک ایسا بڑا اور اسٹریٹیجک ملک قرار دیا جس کے ساتھ مثبت تعلقات خطے میں قیام امن کا موجب ہیں۔ عباس البیاتی نے دہشت گرد گروہ داعش کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں عراق کی حمایت اور پشت پناہی کرنے کی بناء پر اسلامی جمہوریہ ایران کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پہلا ملک تھا جس نے دہشت گرد گروہ داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق کی مدد کئے جانے پر مبنی درخواست کا مثبت جواب دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کی کوششیں، دینی مرجعیت کا فتوی اور عوامی رضاکار فورس کا ساتھ نہ ہوتا تو عراق پر دہشت گردوں کا قبضہ ہو جاتا۔