یمن میں ایران کے کردار کے بارے میں برطانوی سفیر کی لفاظیاں
یمن میں ایران کے کردار کو برطانیہ کس نگاہ سے دیکھتا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جسے لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط نے پیر کے روز، یمن میں برطانیہ کے سفیر ایڈمنڈ براؤن کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کیا- برطانوی سفیر نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں ان رپورٹوں کے بارے میں تشویش ہے کہ جن میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ہتھیار یمن منتقل کئے ہیں اور ہم ایران کو اس بات کی جانب ترغیب دلا رہے ہیں کہ وہ یہ ثابت کرے کہ یمن کے بحران کے حل میں وہ کوئی تعمیری کام کر سکتا ہے-
اس برطانوی عہدیدار نے یہ دعوی بھی کیا کہ لندن کی سیاست، یمن میں اتحاد و وحدت اور حاکمیت و خودمختاری کی حمایت کرنا ہے- انہوں نے کہا کہ ہم یمن کے تمام گروہوں کو ترغیب دلا رہے ہیں کہ وہ پرامن مذاکرات اور تشدد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ، اپنے اہداف اور امنگوں کو عملی جامہ پہنائیں-
البتہ اس برطانوی عہدیدار کو چاہئے کہ وہ ان لفاظیوں، فضول دعووں اور بے بنیاد رپورٹوں کو ثبوت بنانے کے بجائے، برطانیہ کے غیر انسانی رویوں اور عام شہریوں منجملہ یمنی عورتوں اور بچوں کے قتل عام میں برطانوی ہتھیاروں کے ناقابل انکار اور وسیع استعمال کے تعلق سے اپنے ملک کی پارلیمنٹ کے اراکین کے سوالوں پر توجہ دیں- دو روز قبل برطانیہ کے اسمارٹ بموں کے ذریعے یمنی عوام کے قتل عام کا اسکینڈل اخباروں کی شہ سرخیوں میں تبدیل ہو گیا- برطانوی اخبار آبزرور نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں لکھا ہے کہ برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ کی رایٹن فیکٹریوں میں اسمارٹ بم تیار کئے جاتے ہیں، اور ان بموں نے تمام بڑی جنگوں میں اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ہے-
اخبار گارڈین نے چند روز قبل بھی ایک مقالے میں لکھا تھا کہ برطانیہ ایک ہاتھ سے یمنیوں کو طبی اور غذائی امداد دیتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے سعودی عرب اور اس کےاتحادیوں کو یمن پر حملے کے لئے ہتھیار اور فوجی ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے- اخبار گارڈین نے انکشاف کیا کہ یمن کے خلاف مارچ دو ہزار پندرہ سے وحشیانہ حملے شروع ہونے کے وقت سے اب تک برطانوی حکومت نے سعودی عرب کو فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کی فروخت کے سینتیس اجازت نامے جاری کیے ہیں- برطانیہ نے دو ہزار پندرہ میں سعودی عرب کو تین ارب پچاس کروڑ پونڈ کے ہتھیار فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی- اس اخبار کے مطابق برطانیہ نے دو ہزار چودہ کے اواخر میں اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں- جبکہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ کسی بھی ملک یا گروہ کو، انسانی حقوق ، آزادیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ہتھیار فرخت نہیں کریں گے-
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے نام ایک مراسلے میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی یمن کے ایک دیہی علاقے میں BL-755 کلسٹر بموں کے استعمال کے اسکینڈل کے بارے میں فورا ضروری تحقیقات کرائیں- BL-755 کلسٹر بموں کی ڈیزائننگ ، برطانوی ساخت کے ٹورناڈو لڑاکا طیاروں کے استعمال کے لئے کی گئی ہے کہ جن کا استعمال سعودی فضائیہ نے یمنی شہریوں کے خلاف کیا ہے-
یہ ہتھیار 1970 کے عشرے میں مشرقی برطانیہ کے علاقے "بیڈفورڈ شایر" میں "ہنٹنگ انجینئرنگ" سے موسوم ایک کارخانے میں بنایا گیا- یہ ایسی حالت میں ہے کہ دنیا کے سو سے زیادہ ملکوں میں بین الاقوامی سطح پر اس کے استعمال پر پابندی کو دسیوں سال کا عرصہ گذر چکا ہے-
برطانیہ نے 1980 سے 1990 کے برسوں کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بڑے پیمانے پر کلسٹر بم فروخت کئے ہیں-
یمن کے خلاف سعودی عرب کے تباہ کن حملوں میں، کہ جن میں عام طور پر بےگناہ شہری مارے جاتے ہیں، اب تک ساڑھے نو ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں-
یمن کے خلاف بچوں کے قاتل اتحاد کو ہتھیار فراہم کرنے والے دو اصلی ملکوں کی حیثیت سے برطانیہ کو، عالمی رائے عامہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا اور واضح طور پر اس بات کا اعلان کرنا اور وضاحت کرنا ہو گی کہ سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے پر پابندی پر مبنی یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کے باوجود کیوں یہ ملک، انسانیت سوز اور سوداگرانہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے یمن مخالف جارح اتحاد کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے- یمن میں برطانوی سفیر کا بیان، الشرق الاوسط کے لئے ایک صحافتی نقطہ نگاہ سے یقینا ہدف و مقصد رکھتا ہے خاص طور پر اس لیے کہ اس پروپگنڈے کے ایک طرف ایرانو فوبیا کی بحث ہے- لیکن حقائق پر نظر ڈالنے سے علاقے میں اس بوڑھے سامراج برطانیہ کا حقیقی کردار کچھ اور ہی نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ کس مداخلت پر تشویش کا اظہار کرنا چاہیے؟