صیہونی حکومت کو فلسطینیوں کا انتباہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i244369-صیہونی_حکومت_کو_فلسطینیوں_کا_انتباہ
غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیتوں میں شدت آنے پر فلسطینیوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۳, ۲۰۱۶ ۱۳:۲۸ Asia/Tehran
  • صیہونی حکومت کو فلسطینیوں کا انتباہ

غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیتوں میں شدت آنے پر فلسطینیوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے-

اس سلسلےمیں تحریک حماس کے ترجمان مشیر المصری نے کہا ہے کہ غزہ کے خلاف اسرائیل کے تازہ ترین ہوائی حملوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ غاصب حکومت جنگ بندی کی پابند نہیں ہے- المصری نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت نے اسرائیل کو حملے جاری رکھنے پر خبردار کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔ فلسطین کے مزاحمتی گروہوں نے کہا ہے کہ وہ غاصب اسرائیل کے حملوں اور اس کی جانب سے جنگ بندی کی پابندی نہ کئے جانے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اپنا ردعمل ظاہر کریں گے-

قابل ذکر ہے کہ فلسطینی مزاحمت اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے سمجھوتے پر دستخط، اگست دو ہزار چودہ میں غزہ پر اسرائیل کے پچاس روزہ وحشیانہ حملوں کے بعد کئے گئے تھے- غزہ کے باشندوں پر صیہونی فوجیوں نے ایسی حالت میں حملہ کیا ہے کہ جب یہ غاصب حکومت 2007 سے غزہ کا شدید محاصرہ کئے ہوئے ہے اور ایندھن، دواؤں اور بلڈنگ میٹیریل جیسی بنیادی ضرورت کو بھی اس علاقے میں لے جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے- صیہونی حکومت کے جنگ پسندانہ اور دھمکی آمیز اقدامات، کہ جو سازباز مذاکرات کی ناکامی کے نتیجے میں صیہونی حکومت کے چہرے سے امن پسندی کا نقاب ہٹنے کے بعد، انجام پا رہے ہیں، ماضی سے زیادہ اس تشدد پسند حکومت کے حقیقی چہرے کو نمایاں کر رہے ہیں- غزہ کا ظالمانہ محاصرہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ جب 2008 ، 2012 اور 2014 میں غاصب صیہونی حکومت، غزہ کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے کرکے اور ہزاروں افراد کی جانیں لینے کے بعد بھی اپنا کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکی- صیہونی حکومت کے رویے اور اقدامات اس امر کے غماز ہیں کہ یہ حکومت کبھی بھی علاقے میں امن کی خواہاں نہیں رہی ہے۔ بلاشبہ علاقے میں عوامی مزاحمت کے مقابلے میں صیہونی حکومت کی روز افزوں  فوجی و سیاسی ناکامیوں نے عملی طور پر اس حکومت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور ایسے حالات میں صیہونی حکومت، دھمکیوں اور فوجی اقدامات کے ذریعے اپنے باطل خیال میں ان ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے-

صیہونی حکومت اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے اور مطلوبہ صلاحیت رکھنے کی صورت میں وہ علاقے میں ایک اور جنگ چھیڑنے سے دریغ نہیں کرے گی- اس لئے کہ اس غاصب حکومت نے اپنے ناپاک وجود کی تشکیل کے وقت سے اب تک فلسطین کے عوام اور علاقے کی دیگر اقوام پر متعدد جنگیں مسلط کی ہیں۔

بلا شبہ صیہونی حکومت کے رویے اور اقدمات عقل و منطق پر استوار نہیں ہیں اور اسرائیلی حکام علاقے کے عوام کی مزاحمت کے مقابلے میں ملنے والی ناکامیوں کے سبب  بوکھلاہٹ اور بدحواسی کا شکار ہیں- صیہونی حکومت کے رویوں میں تبدیلی سے اس امکان کو تقویت کو ملتی ہے کہ اس حکومت کے حکام ایک بار پھر احمقانہ قدم اٹھا سکتے ہیں- اسی حقیقت کی بنیاد پر علاقے کی اقوام منجملہ ملت فلسطین نے ہمیشہ صیہونی حکومت کے مقابلے میں اپنی مکمل آمادگی کا اعلان کیا ہے اور صیہونی حکومت کے احمقانہ اور غیر عاقلانہ اقدامات کے مقابلے میں مزاحمت کے لئے استقامت کے محاذ کے تحفظ کو ایک ضروری امر قرار دیا ہے اور اسی حقیت  پر فلسطینی مجاہدین تاکید کرتے ہیں-