شمالی شام میں کردوں کے ٹھکانوں پر ترکی کے توپخانے کے حملے
ترکی کے وزیر اعظم نے شام کے کردوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ترکی کی حدود میں کسی خودمختار حکومت کی تشکیل کو برداشت نہیں کریں گے-
انہوں نے اسی طرح ترکی کے کردوں سے کہا ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پرامن راستے اختیار کریں- اس سے قطع نظرکہ ترکی کے وزیر اعظم بن علی ییلدریم نے کردوں کے مقاصد کا کوئی ذکر نہیں کیا، لیکن شام کے کردوں کو انتباہ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد شمالی شام میں کردوں کے ٹھکانوں پر ترکی کی فوج نے توپخانے سے حملہ کر دیا- این ٹی وی نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پیر کو شمالی شام میں داعش دہشت گردوں اور کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر ترکی نے توپخانے سے حملے کئے ہیں- ترکی داعش کے خلاف اپنے حملوں کو عالمی برادری کی خواہشات سے ہم آہنگ اقدام سمجھتا ہے کہ جو اس تکفیری دہشت گرد گروہ کو سرکوب کرنے اور اس کی سرگرمیوں کا دائرہ محدود کرنے کے لئے انجام دے رہا ہے- البتہ ترکی کے حکام داعش اور شامی کردوں کے خلاف ایک جیسے اقدامات انجام دے رہے ہیں- یہ وہی طرز عمل ہے جسے انقرہ کے حکام نے فوجی بغاوت کے دوسرے دن سے ہی اپنے ایجنڈے میں قرار دے رکھا ہے- کردستان لیبر پارٹی پی کے کے، کو داعش دہشت گرد گروہ کی صف میں قرار دینا اور فتح اللہ گولن کی پارٹی ھیزمت کو دہشت گرد گروہ کہنا ، انقرہ حکومت کے اسی طرز عمل کا تسلسل ہے- اس فرق کے ساتھ کہ ترک حکومت، انقرہ اور پی کے کے ، کے درمیان کشیدگی میں شدت آنے کے ساتھ ہی شمالی شام کے کردوں کے طاقتور ہونے کو، علاقے میں اپنے مفادات اور ارضی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتی ہے-
اسی بناء پر ترکی کے وزیر اعظم نے اپنے حالیہ بیان میں پی کے کے ، کے ساتھ انقرہ حکومت کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے، شمالی شام میں کردوں کے توسط سے خود مختار حکومت کی تشکیل کی مخالفت کی ہے- خاص طور پر انہوں نے اس امر پر تاکید کی ہے کہ انقرہ اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ کرد عوام، شام میں ترکی سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں ایک خودمختار حکومت تشکیل دیں –
دوسری جانب ییلدریم نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دہشت گردی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ترکی کے کردوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے پرامن راستے اختیار کریں کیونکہ ان کے بقول پی کے کے اپنے دہشت گردانہ اقدامات سے صرف بھاری اخراجات کا متحمل ہوگا- ییلدریم نے اس جانب کوئی اشارہ نہیں کیا کہ کیوں حقیقت میں پی کے کے ، کے ساتھ ترکی کی کئی حکومتوں کے امن مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں-
دوسری جانب اگر چہ کہا جا رہا ہے کہ ترکی کی فوج نےشمالی شام میں داعش اور کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر بیک وقت حملہ کیا ہے تاہم بہت ہی کم آزاد خبری ذرائع نے داعش کے ٹھکانوں پر ترکی کے توپخانے کے حملے کی تصدیق کی ہے- اس کے بجائے ترکی کی فوج اور حکومت نے اس امر پر تاکید کی ہے کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں سے مکمل طور پر شام کی کرد ملیشیا کا صفایا کر دے گی-
دوسری جانب شام کے کردوں اور داعش گروہ کے درمیان اختلاف کے پیش نظر ایسا نہیں لگتا کہ ترک فوج کی کارروائی کا مقصد، حقیقت میں دونوں گروہوں کو سرکوب کرنا ہے اور یہ مسئلہ ، شام کے کرد ذرائع کی رپورٹوں کی تصدیق کرتا ہے کہ ترکی، شمالی شام میں داعش گروہ پر حملے کی آڑ میں اس علاقے میں شامی کردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے-