یمنی عوام کا قتل عام اور مغربی ہتھیار
یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں میں عام شہریوں کی شہادتوں کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کے بعد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ آل سعود کے ہاتھ ہتھیار فروخت کرنا بند کر دیں۔
خبری ذرائع نے منگل کے دن ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی ہائی کمیشن سمیت انسانی حقوق کی حامی تنظیموں نے یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے جرائم و مظالم میں شدت پیدا ہونے سے متعلق کہا ہے کہ ان تنظیموں کے نزدیک حالیہ مہینوں کے دوران یمنی عوام کے قتل عام کا اصل سبب امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا سعودی عرب کے ہاتھ ہتھیار فروخت کرنا ہے۔
بین الاقوامی ادارے آکسفام (Oxfam) نے بھی ایک بیان جاری کر کے حالیہ ایک برس کے دوران امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ کئے جانے والے ہتھیاروں کے معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی فرائض اور وعدوں کے منافی ہونے کے علاوہ یمن کے کم از کم دس ہزار بے گناہ شہریوں کے قتل عام کا بھی سبب ہیں۔
ہتھیاروں کی فروخت پر نگرانی رکھنے والی تنظیم کی گزشتہ مہینے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حالیہ دو برسوں کے دوران امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدے ہیں۔ اور انہی ہتھیاروں کو اس نے یمن کے عوام کے خلاف استعمال کیا ہے۔
سعودی عرب، کہ جس کا نام اقوام متحدہ نے یمنی بچوں کے قتل عام کی بنا پر گزشتہ جون کے مہینے میں کچھ عرصے کے لئے بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا، کا دعوی ہے کہ یمن میں جنگ کرنے کا مقصد عبدربہ منصور ہادی کی حکومت کی حمایت کرنا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب علی عبداللہ صالح کی سرنگونی کے بعد منصور ہادی کو یمنی عوام نے اپنا صدر منتخب نہیں کیا تھا بلکہ آل سعود نے اسے یمن کا صدر قرار دیا تھا اور یہی چیز یمنی عوام کی تحریک اور منصور ہادی کی سرنگونی کا سبب بن گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مغرب کی حمایت کے ساتھ مارچ سنہ دو ہزار پندرہ سے یمن کے مفرور سابق صدر عبدربہ منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے یمن پر تباہ کن حملے شروع کئے جو آج تک جاری ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں یمن کو ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔
ان حالات میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے سعودی اتحاد کا نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا لیکن پھر اس ملک کی جانب سے اقوام متحدہ کی امداد بند کئے جانےکی دھمکی کے بعد شرمناک اقدام کرتے ہوئے اس اتحاد کا نام یمنی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست سے خارج کر دیا۔
اگرچہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے والوں کی فہرست سے سعودی عرب کا نام خارج کرنا ان کے لئے ایک بہت تکلیف دہ فیصلہ تھا لیکن اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی جانب سے ریاض کی سیاسی اور فوجی حمایت سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ ایسے فیصلوں کا نتیجہ یمنی عوام خصوصا بچوں کے مصائب میں شدت پیدا ہونے کے سوا کچھ اور برآمد نہیں ہوا ہے اور اس طرح کے امور سے ان کا مستقبل تاریک ہو کر رہ گیا ہے۔
ان سب باتوں کے باوجود بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق اور دہشت گردی جیسے مسائل کو حربے کے طور پر استعمال کرنے کے نتیجے میں ہی دنیا میں دہشت گردانہ خطرات میں اضافہ ہوا ہے اور جب تک مغربی حکومتیں دہشت گردی کے مقابلے اور انسانی حقوق سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے درپے رہیں گی اس وقت تک وہ علاقے اور دنیا میں امن قائم نہیں کر سکیں گی۔