جنگ یمن کے خاتمے کے لئے جدہ میں جان کیری کی چارہ جوئی
امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور سعودی ولیعہد کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے جدہ میں یمن اور شام کی صورتحال کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا ہے-
جان کیری اور شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کی صبح کو یمن میں جنگ کے خاتمے اور متحارب گروہوں کے درمیان دوبارہ امن مذاکرات شروع کئے جانے کے بارے میں تین گھنٹے تک مذاکرات کئے- جان کیری اس دورے میں، یمن میں جنگ کے خاتمے کی راہوں کا جائزہ لینے کے لئے سعودی عرب کے فرمانروا ملک سلمان اور خلیج فارس کے دیگر ممالک کے حکام سے بات چیت کریں گے اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزراء نیز برطانیہ کے وزیر مملکت کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے- جان کیری کا یہ دورہ، علاقے منجملہ شام کے حالات کے بارے میں ترکی کے مختلف نقطۂ نگاہ اور شام کے سلسلے میں ایران اور روس کے ساتھ اس کے تعاون اور یمن میں رونما ہونے والی نئی تبدیلیوں کے دائرے میں انجام پا رہا ہے- کویت میں امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد، یمن اہم سیاسی تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر رہا ہے- یمن میں اعلی سیاسی کونسل کے قیام ، جنگ شروع ہونے کے تقریبا سترہ مہینوں کے بعد اس ملک کی پارلیمنٹ کی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز اور اعلی سیاسی کونسل کو یمنی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اعتماد کا ووٹ دیئے جانے کے سبب، یمن کی سیاسی صورتحال نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے-
یمن کی سیاسی تبدیلیوں کی حمایت میں لاکھوں کی تعداد میں اس ملک کے عوام نے گزشتہ اتوار کو دارالحکومت صنعا میں اجتماع کیا اور سعودی جارح اتحاد کی جنگ کی مخالفت میں اپنے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا - یمن میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے عمل سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یمن کے اہم مزاحمتی گروہوں منجملہ تحریک انصاراللہ اور یمن کی عوامی کانگریس پارٹی کو جنگ بندی کے عمل میں ماضی سے زیادہ عوامی حمایت حاصل رہے گی- اعلی سیاسی کونسل کی تشکیل کے ساتھ ہی یمن کے عوام اور سیاسی گروہوں کی طاقت کے مظاہرے نے، ماضی سے زیادہ ان کو اس ملک کے سیاسی میدان میں زیادہ کردار ادا کرنے والا بنا دیا ہے- یمن کے خلاف جنگ شروع کرنے کا سعودی اتحاد کا مقصد یمنی عوام کو منتشر کرنا، ان میں پھوٹ ڈالنا اور اس ملک کے سرگرم سیاسی گروہوں منجملہ تحریک انصاراللہ سے عوام کو دور کرنا اور انہیں کنارے لگانا تھا، لیکن امریکہ کی مدد سے سعودیوں کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا- ایسے حالات میں اس مقصد سے جنگ جاری رکھنا کہ یمن کے مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لایا جائے ، محض سراب کے اور کچھ نہیں ہے-
یمن کے خلاف جارح سعودی اتحاد کے حملوں میں شدت اور یمن کی عورتوں اور بچوں کا قتل عام اس بات کی علامت ہے کہ یمن میں رونما ہونے والی صورتحال سے سعودی عرب کا غم وغصہ بڑھ گیا ہے- یمن پر سعودی حملوں میں تیزی آنے پر امریکہ کا ردعمل بھی بظاہر ریاض کے اقدام پر اس کی ناراضگی کا غماز ہے - سعودی عرب سے امریکہ کے فوجی مشیروں کے انخلاء کی خبروں کو بھی عرب ذرائع ابلاغ نے وسیع پیمانے پر کوریج دی ہے- یہ فوجی مشیر یمن کی جنگ میں سعودی اتحاد کی پشتپناہی کر رہے تھے- یمن پر سعودی عرب کے وسیع حملوں کے دوران اس امریکی اقدام سے اگرچہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کوئی دراڑ پڑنے والی نہیں ہے تاہم سعودیوں کے لئے یہ سفید چیک کے مترادف بھی نہیں ہے- یمن کے سیاسی حقائق کو تسلیم کرنے اور اس ملک کی اعلی سیاسی کونسل پر یمنی عوام کے اعتماد کے سبب، مستقبل میں یمن امن مذاکرات کا راستہ ہموار اور آسان ہوجائے گا- یمنی عوام کے مطالبات سے ٹکراؤ، ریاض گروہ کو اقتدار کے حصول میں کوئی مدد نہیں دے گا اور یمن کے عوام نے گزشتہ سترہ مہینوں سے جاری جنگ کے دوران یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے-