شام پر ترکی کی لشکر کشی کے خلاف ردعمل
شام میں دوہزار گیارہ سے بحران شروع ہونے کے وقت سے پہلی بار ترکی نے آشکارہ اور سرکاری سطح پر فوجی کارروائی کی ہے جس کے خلاف علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے-
ترکی کے وزیر اعظم کے دفتر نے چوبیس اگست کو نام نہاد امریکی اتحاد کے ساتھ تعاون کے دائرے میں ، جرابلس کے علاقے کو داعش سے آزاد کرانے کے لئے اپنی کارروائیاں شروع کرنے کی خبر دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جرابلس شہر پر صبح سے ہوائی حملے شروع ہوگئے ہیں اور اس ملک کی مسلح افواج کا ایک گروپ بھی شام کی سرحد کی جانب روانہ کردیا گیا ہے- اس اعلان کے تھوڑی ہی دیر بعد ترکی کے وزیر داخلہ "افکان آلا" نے نامہ نگاروں کے اجتماع میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ شام میں ان کی آشکارہ مداخلت داعش اور دہشت گرد گروہوں سے مقابلے کے بہانے سے ہے- انہوں نے جرابلس شہر کی صورتحال کو ترکی کے لئے خطرناک قرار دیا- ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شام میں دہشت گردوں کے مقابلے میں اب ترکی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے کہا کہ ترکی اس وقت داعش اور شامی کردوں کی ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور شام کے بحران کا حل، ترکی کے بغیر ممکن نہیں ہے- حقیقت یہ ہے کہ انقرہ کے حکام شام پر لشکرکشی کےذریعے، مختلف اہداف کی جستجو میں ہیں کہ جن میں سے بعض کا تعلق اس ملک کی داخلی تبدیلیوں سے ہے اور بعض کا تعلق عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہے- اس بناء پر مبصرین کا خیال ہے کہ ترکی کے حکام اس ملک میں حال ہی میں ہونے والی حالیہ ناکام فوجی بغاوت اور ان افراد کو جو ترکی کے بقول اس بغاوت میں ملوث تھے ان سب کا صفایا کرنے کے بعد، اب شام پر لشکر کشی کے ذریعے فوج میں اپنے اقتدار اور فوجیوں کی فرمانبرداری کو، ملکی اور غیر ملکی سطح پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں - پندرہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے سبب، تحقیر و ذلت کے بعد ترک فوج کے وقار کو بحال کرنے کے مقصد سے شام پر لشکر کشی کرنا، ترکی کے داخلی اہداف کا ایک حصہ ہے- شام کے مسائل میں ترکی کی براہ راست فوجی مداخلت اور فوج کا داخل ہوجانا ، واشنگٹن اور ماسکو کی ایماء کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا ہے- خاص طور پر ایسے میں جب کہ انقرہ ، واشنگٹن اور ماسکو اور اسی طرح عالمی برادری علاقے میں داعش سے مقابلے کے درپے ہیں- دوسری جانب کرد ملیشیا کی پیشقدمی اور شمالی علاقوں پر ان کا تسلط نیز شام کے شمال میں اور ترکی کی سرحد کے قریب کرد بیلٹ کی تشکیل ، انقرہ کے لئے خوش آئند نہیں ہے- اس لئے ترکی نے اس بیلٹ کی تشکیل سے مقابلے کی غرض سے شام میں فوجی مداخلت کا اقدام کیا ہے- البتہ اس توجیہ کے ساتھ کہ ترکی داعش کو سرکوب کرنے کا خواہاں ہے-
شام میں تکفیری اور دہشت گرد گروہ داعش کی شکست کے بعد اس گروہ کے افراد ، ترکی کی سرحدی فوج کی چشم پوشی کے سبب اس سرزمین میں گھس آئے- بعض رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ترکی کے سرحدی صوبوں غازی انتپ سمیت دیگر سرحدی صوبوں اور شہروں میں دہشت کرد گروہ داعش کے عناصر موجود ہیں - شام پر ترکی کی لشکر کشی کا ایک مقصد، ترکی کو شام میں ماسکو اور واشنگٹن کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے والے عامل کی حیثیت سے پہچنوانا ہے - یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام پر ترکی کی لشکر کشی کا مختصر مدت میں اثر یہ ہوگا کہ تمام دہشت گرد گروہ اور بشار اسد کے مخالفین یکجا ہوجائیں گے- اس فرق کے ساتھ کہ ان میں سے ہر ایک دہشت گرد گروہ اور شام حکومت کا مخالف گروپ ، علاقے میں داعش جیسے گروہ میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے- یہ وہ گروہ ہیں جو میدانی تبدیلیوں کے نتیجے میں ، نہ صرف ترکی کی سرحدوں پر بلکہ ترکی کی پوری جغرافیائی سیاست کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کرسکتے ہیں اور شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کے اسٹریٹیجک اور سیاسی اخراجات میں ترک حکام اور معاشرے کے لئے اضافہ کرسکتے ہیں -
شامی کرد جماعت ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کے سربراہ صالح مسلم کا انتباہ، کہ جنہوں نے اپنے ملک کے خلاف ترکی کی لشکرکشی کو شام میں ترک فوج کے دلدل میں داخل ہونے سے تعبیر کیا ہے، اس سلسلے میں قابل غورہے-