بحران یمن اور اقوام متحدہ کی بوکھلاہٹ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i244973-بحران_یمن_اور_اقوام_متحدہ_کی_بوکھلاہٹ
بحران یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں کے اقدامات، نظریات اور رد عمل بحران یمن کے سلسلے میں اس بین الاقوامی ادارے کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۶, ۲۰۱۶ ۱۶:۴۱ Asia/Tehran

بحران یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں کے اقدامات، نظریات اور رد عمل بحران یمن کے سلسلے میں اس بین الاقوامی ادارے کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے ایک بیان میں یمن کے خلاف ہونے والے جرائم کے بارے میں ایک غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کا مطالبہ کیا ہے۔

بحران یمن کو دو ادوار یا حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ سنہ 2011 سے مارچ 2015 تک اور دوسرا مارچ 2015 سے اب تک کا دور۔ پہلے دور کی اصل بات یہ تھی کہ یمنی عوام نے تیونس، مصر اور لیبیا کے عوام کی طرح حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کرکے آمرانہ نظام حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا لیکن سعودی عرب نے خلیج فارس تعاون کونسل کے دائرے میں اور امریکا کی حمایت سے یمنی عوام کے عزم و ارادے کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور عوام کے جمہوری مطالبات کی تکیمل کے راستے میں حائل ہوگیا۔ یہ اقدام ایک پٹھو حکومت کے ایک بار پھر برسرکار آنے کا سبب بنا اور اس بار عبداللہ صالح کے نائب منصور ہادی کی صدارت میں حکومت بنائی گئی جن کے پاس اٹھارہ سال تک یہ عہدہ رہا۔ اس بار اقوام متحدہ نے بحران یمن کے بارے میں بے عملی کا رویہ اختیار کیا کیونکہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق کسی بھی ملک کے عوام کا ایک اہم ترین حق اپنی سرنوشت کے تعین کا حق ہے لیکن سعودی عرب اور امریکا اپنی سرنوشت کے تعین کے یمنی عوام کے حق کے حصول کی راہ میں حائل ہوگئے۔

بحران یمن کے دوسرے حصے کا اصل موضوع اس بحران کے ایک داخلی مسئلے سے یمن کے خلاف سعودی عرب اور اس کے یمنی اور غیر یمنی اتحادیوں کی علاقائی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔ در حقیقت یمن پر سعودی عرب کے حملے سے بحران یمن ایک بین الاقوامی مسلح تنازعہ میں بدل گیا۔

بین الاقوامی مسلح تنازعات میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرنے والوں میں اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ ادارے ہیں۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے دائرے میں مسلح تنازعات کو حل کرانے کا فریضہ اس بین الاقوامی ادارے کا ہے اور اس طرح کے تنازعات میں اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل اہم کردار کا حامل ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے بھی پناہ گزینوں اور جنگ سے متاثرہ افراد کی امداد رسانی جیسے فرائض ہیں اور بعض ذیلی اداروں کی ذمہ داری اس طرح کے تنازعات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں تحقیقات اور رپورٹیں تیار کرنا ہے۔

اقوام متحدہ نے، جس کے پاس پہلے دور میں اپنی سرنوشت کے تعین کے  یمنی عوام کے حق کے دفاع کی توانائی نہیں تھی، دوسرے دور میں بھی اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے جو صرف ایک اہم اقدام کیا وہ قومی مذاکرات کے انعقاد کے لئے یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد شیخ کی کوششیں ہیں لیکن آل سعود کی طرف سے مشکلات کھڑی کئے جانے کی وجہ سے یہ کوششیں بھی بحران یمن کے سلسلے میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی، جنہوں نے پہلے سعودی عرب کا نام بحران یمن میں بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی فہرست میں شامل کرلیا تھا، سعودی عرب اور اس کے عرب اور مغربی اتحادیوں کے دباؤ میں آکراس فہرست سے سعودی عرب کا نام حذف کردیا۔

اب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر نے ایسے حالات میں یمن کے خلاف ہونے والے جرائم کے بارے میں ایک غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کا مطالبہ کیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس طرح کی کوئی کمیٹی بن گئی تو اس کے فیصلوں پر عمل درآمد ہو پائے گا یا نہیں؟

اہم نکتہ یہ ہے کہ جب سعودی عرب، جس نے یمن میں وسیع جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور ایسے جرائم جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور میں مذکور تین طرح کے سنگین جرائم یعنی انسانیت اور امن کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے واضح مصداق ہیں، مغربی طاقتوں کی حمایت و مدد سے انسانی حقوق کونسل کی صدارت کے لئے چن لیا جاتا ہے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ جرائم کی روک تھام کے سلسلے میں ناتوانی کا ثبوت زیادہ نظر آتا ہے۔ اس ناتوانی کی اصل وجہ بھی یہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے بڑی مغربی طاقتوں کے آلۂ کار ہیں نیز مغربی طاقتوں اور سعودی عرب سمیت رجعت پسند عرب حکومتوں کے مفادات بھی مشترکہ ہیں۔