امریکی وزیر خارجہ کا دورہ بنگلہ دیش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i245467-امریکی_وزیر_خارجہ_کا_دورہ_بنگلہ_دیش
امریکی وزیر خارجہ جان کیری پیر کے روز اپنے ایک روزہ دورۂ بنگلہ دیش کے دوران اس ملک کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات اور دو طرفہ مسائل کے بارے میں بات چیت کریں گے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۲۹, ۲۰۱۶ ۱۴:۲۶ Asia/Tehran
  • امریکی وزیر خارجہ کا دورہ بنگلہ دیش

امریکی وزیر خارجہ جان کیری پیر کے روز اپنے ایک روزہ دورۂ بنگلہ دیش کے دوران اس ملک کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات اور دو طرفہ مسائل کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

اس کے علاوہ وہ جنوبی ایشیا کے علاقے اور عالمی مسائل کے بارے میں بھی حسینہ واجد سے گفتگو کریں گے۔ امریکہ اور بنگلہ دیش کے تعلقات امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کے برخلاف، کہ جن میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، آگے کی طرف بڑھتے ہوئے روایتی تعلقات قرار دیے جاتے ہیں۔

اس کے باوجود امریکہ اپنی عادت کے مطابق کہ وہ دوسرے ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کرتا ہے، بنگلہ دیش سے بھی مطالبہ کرے گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور یکطرفہ سوچ کو چھوڑنے کے سلسلے میں امریکی مطالبے پر عمل کرے۔

بنگلہ دیش کی سیکولر وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو اپنے پروگراموں پر عمل درآمد کے سلسلے میں بہت کم مغربی اور سکولر حلقوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حتی بنگلہ دیش میں جب عورتوں کی ترقی کی پالیسی کے بل کی منظوری کی بحث چھڑی تو ڈھاکہ حکومت کے اس اقدام پر اس ملک کے علما نے تنقید اور احتجاج کیا تھا لیکن امریکی نظریات کے قریب سمجھےجانے والے حلقوں نے اس بل کی منظوری کی  تائید کر کے عملی طور پر شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا ساتھ دیا اور اپوزیشن کی مخالف صف میں کھڑے ہو گئے۔

بحث یہ نہیں ہے کہ کون سے قانون کی منظوری بنگلہ دیشی عوام کے فائدے میں اور کون سی ان کے نقصان میں ہے، بلکہ بحث دوسرے ملکوں کے داخلی امور حتی ثقافتی شعبے میں امریکہ کی بےجا مداخلت کے بارے میں ہے۔ یہ ایسے وقت میں تھا کہ عورتوں اور مردوں کا وراثت میں برابر حصہ دین اسلام کی روح اور قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔ اس بارے میں کہ عورتوں کی ترقی کے بارے میں پالیسی، غیرترقی یافتہ بنگلہ دیش میں سیکولرازم کو کتنا مضبوط بنانے کا باعث  بنتی ہے، اس کے نتائج درمیانی مدت میں سامنے آئیں گے۔

لیکن بنگلہ دیش میں بہت سے سیاسی ماہرین اور دانشورں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تبدیلیاں رونما ہونے کا مطلب اس ملک کا مغربی کیمپ کی طرف جانا ہو گا۔

بنگلہ دیش کی معیشت کا زیادہ تر انحصار ٹیکسٹائل کے شعبے پر ہے اور چٹاگانگ بندرگاہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کا اصلی راستہ ہے۔ اگرچہ انیس سو نوے کے بعد سے بنگلہ دیش کی ناخالص قومی پیداوار میں ہر سال کچھ نہ کچھ اضافہ ہوا ہے اور بعض اوقات یہ پانچ فیصد تک بھی پہنچی ہے کہ جو اس ملک کے متوسط طبقے کے فائدے میں تھی لیکن یہ ملک عالمی سطح پر دنیا کے غریب ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ امریکہ اور بنگلہ دیش کے گزشتہ چار دہائیوں کے تعلقات کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے، کیوں اس ملک کے تقریبا اڑتالیس فیصد بچوں کو مطلوبہ مقدار میں کھانا دستیاب نہیں ہے اور انچاس فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ شیخ حسینہ واجد مغربی حکومتوں کو اپنے ملک کی پسماندگی کا کتنا ذمہ دار سمجھتی ہیں۔

بنگلہ دیش کے چین اور ہندوستان جیسے علاقے کے دو بڑے اور بااثر ملکوں کے ساتھ پائیدار تعلقات ہیں۔ یہ تعلقات درمیانی مدت میں بنگلہ دیش کے صنعتی اور اقتصادی حالات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں بنگلہ دیش کی امریکہ کی جانب توجہ کم ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

اس بنا پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورۂ بنگلہ دیش کا ایک مقصد اس ملک کو مدد فراہم کرنا ہو گا تاکہ واشنگٹن کے خیال میں توازن قائم ہو سکے۔

ایسا لگتا ہے کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھی امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو باقی رکھنا اور امریکی امداد حاصل کرنے کے لیے تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم نے اپنی کارکردگی سے ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پائیدار تعلقات چین اور ہندوستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات سے منافات نہیں رکھتے ہیں۔