امریکی وزیر خارجہ کا دورہ ہندوستان
امریکی وزیر خارجہ جان کیری، ہندوستان کے حکام سے ملاقات و مذاکرات کے لئے منگل کے روز اس ملک کے دورے پر نئی دہلی پہنچے ہیں۔
جان کیری کے اس دورے میں امریکی وزیر تجارت بھی ان کے ساتھ ہیں۔ امریکی وزیر تجارت اپنے دورہ نئی دہلی میں ہندوستان اور امریکہ کے دوسرے اسٹریٹیجی و تجارتی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ جان کیری، اپنے تین روزہ دورہ نئی دہلی میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ جان کیری کا یہ دورہ، ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کی تو سیع کے دائرے میں انجام پا رہا ہے۔ مشرق سے متعلق امریکہ کی پالیسیوں اور مغرب سے متعلق ہندوستان کی پالیسیوں کے تناظر میں دونوں ملکوں کے تعلقات خاصے فروغ پا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران ان دونوں طاقتوں نے عالمی سطح پر اپنی مفاہمت کے عمل کو بھی فروغ دیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں منجملہ سیاسی، اقتصادی، تجارتی، جوہری اور فوجی شعبوں میں متعدد سمجھوتے بھی طے پائے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات اتنی تیزی سے آکے بڑھ رہے ہیں کہ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے ہندوستان کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات کو اکّیسویں صدی کی تقدیر ساز شراکت کا حامل قرار دیا تھا۔ انھوں نے دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کو اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل بتایا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ ہندوستان اور امریکہ، مشترکہ اقدار و مفادات میں کافی شراکت اور ہندوستان، ایشیاء اور بحرالکاہل میں امن و استحکام کے بارے میں ایک جیسے نظریات رکھتے ہیں۔ اسی طرح اہم تبدیلیوں کے تناظر میں ہندوستان اور امریکہ نے پیر کے روز ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ انھوں نے ایک دوسرے کی فوجی حمایت کے ایک سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں اور یہ سمجھوتہ، نئی دہلی اور واشنگٹن کے دفاعی تعلقات کی تقویت سے متعلق ایک اہم قدم شمار ہوتا ہے۔ اس سمجھوتے کی بنیاد پر دونوں ملکوں کی افواج کو اس بات کی اجازت ہو گی کہ وہ لجسٹیک اور تعمیراتی امور کے لئے ایک دوسرے کے برّی، بحری اور فضائیہ کے اڈوں سے استفادہ کریں۔ اس وقت ہندوستان، امریکہ کا ایک اہم ترین فوجی شریک شمار ہوتا ہے۔ در حقیقت ہندوستان اور امریکہ کے تعاون کا ایک اہم پہلو، فوجی ہی ہے اور دونوں ملکوں کے دفاعی و فوجی تعلقات، امریکہ میں بارک اوباما کے برسر اقتدار آنے کے بعد تیزی کے ساتھ فروغ پائے ہیں جن میں ہندوستان کو مختلف قسم کے امریکی فوجی ساز و سامان کی فروخت اور دونوں ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقیں بھی شامل ہیں۔اور ان تعلقات کو فروغ دینا دونوں ملکوں کے دو ہزار پندرہ کے دفاعی ایجنڈے میں شامل رہا ہے اور دفاعی تعلقات کے اس ایجنڈے کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے جسے دو ہزار سولہ میں آگے بڑھایا جاتا رہے گا۔موجودہ صورت حال میں واشنگٹن کے دفاعی حکام کی کوشش ہے کہ ہندوستان کے ساتھ، جو ایک نئی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت کی حیثیت سے آبادی، معاشی، سیاسی، فوجی اور اسٹریٹیجک نقطہ نظر سے خاص اہمیت کا حامل ملک ہے، امریکہ کے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں۔ دوسری جانب ہندوستان بھی امریکہ کے فوجی ساز و سامان کی کیفیت اور جدید و ترقی یافتہ فوجی صنعتوں کے پیش نظر امریکہ کے ساتھ دفاعی و فوجی تعلقات کی توسیع کا خواہاں ہے۔ اس وقت ہندوستان اور امریکہ کے دفاعی تعلقات اتنا فروغ پا چکے ہیں کہ امریکی وزیر دفاع نے دونوں ملکوں کے دفاعی مفادات میں بڑھتی ہوئی یکسوئی کے پیش نظر نئی دہلی اور واشنگٹن کے دفاعی تعلقات کو ایک اسٹریٹیجک معاہدے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ ہندوستان کے ایک دفاعی شریک ملک کی حیثیت سے روس کو، جو ہندوستان کو مختلف قسم کے ہتھیار فروخت کرنے والا اہم ملک شمار ہوتا ہے، نئی دہلی کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھانے کے لئے واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی کوششوں پر تشویش لاحق ہو۔ امریکہ کی جانب سے سخت رقابت کے باوجود روس، ہندوستان کے ساتھ اپنے وسیع تعلقات کا تحفظ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ امریکی فوجی ہتھیاروں کے سمجھوتوں کے بڑھتے ہوئے عمل سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ واشنگٹن، ہندوستان کی ہتھیاروں کی منڈی میں ماسکو کی جگہ پر قبضہ جمانے اور نئی دہلی کے ساتھ ہمہ جہتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ امریکہ، ہندوستان کے ساتھ جوہری تعاون کی توسیع کے لئے بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ واشنگٹن کے حکام کے نقطہ نظر سے امریکہ اور ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات، خاص طور سے فوجی اور اقتصادی شعبوں میں ہندوستان اور روس کے درمیان تعلقات میں دوری آنے کا باعث بنیں گے اور یہی وہ مقصد ہے کہ جسے امریکہ، ایک زمانے سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔