ترکی کی فوجی مداخلت پر شام کا ردعمل
حکومت شام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ شام کے علاقوں سے اپنی فوج کو واپس بلائے اور شام کی ارضی سالمیت کا احترام کرے۔
اس سلسلے میں شام کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام اپنے علیحدہ علیحدہ مراسلوں میں اعلان کیا ہے کہ شام کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی اور شام کے علاقوں میں ترکی کی فوجی کارروائی، جنگی جرم ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت کے خلاف بھی ایک بڑا جرم شمار ہوتی ہے۔ ان مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے گذشتہ چند روز کے دوران اپنے ہزاروں فوجی، شام کے علاقوں میں داخل کئے ہیں تاکہ وہ حلب میں دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر شامی فوج کے خلاف جنگ کریں۔ شام کی وزارت خارجہ نے جرابلس میں داعش کے خلاف مہم کے لئے ترک فوجیوں کے داخلے کو ایک نمائشی اقدام قرار دیا ہے اور تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ترک فوجیوں نے داعش دہشت گردوں کے خلاف ایک گولی تک نہیں چلائی ہے۔ شام نے ترکی کے خلاف یہ شکایت، ایسی حالت میں کی ہے کہ خاص اغراض و مقاصد کے تحت علاقے کے بعض ذرائع ابلاغ منجملہ الجزیرہ ٹی وی نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ فری سیرین آرمی نے ترکی کی برّی فوج اور اس ملک کی فضائیہ کی مدد سے صوبے حلب میں شہر جرابلس کے جنوب اور مغرب میں واقع اٹھارہ قصبوں اور دیہاتوں سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا اور اب وہ شہر منبج کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ حکومت دمشق نے بارہا تاکید کی ہے کہ شام میں دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی مہم، خواہ وہ کسی کی بھی جانب سے ہو، حکومت دمشق کی ہم آہنگی سے ہونی چاہئے اور شام کی حکومت، بہترین طریقے سے دہشت گردی کے خلاف مہم میں سرگرم عمل ہے اور وہ اس بارے میں اپنے فرائض پر بخوبی عمل کر رہی ہے۔ ترکی کی جانب سے ایسی حالت میں اپنے پڑوسی ملک کی ارضی سالمیت کی خلاف روزی کی جا رہی ہے کہ شام کی حکومت نے اپنے ملک میں ترک فوجیوں کی مداخلت اور ان کی موجودگی کے بارے میں کسی بھی سمجھوتے پر دستخط نہیں کئے ہیں اور شامی حکام نے اس سلسلے میں ترکی کی حکومت سے کوئی درخواست بھی نہیں کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سفارتی و بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر ہی مختلف ملکوں کے درمیان تعلقات قائم ہوتے ہیں اور ان قوانین میں دیگر ملکوں کے قومی اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کے احترام نیز ایک دوسرے کے اندرونی امور میں مداخلت نہ کرنے پر تاکید کی گئی ہے۔ ایک دوسرے کے احترام اور اچھی ہمسائیگی کا بنیادی اصول ہی دو ملکوں کے دوستانہ و خوشگوار تعلقات کی بنیاد قرار پاتا ہے اور اسی اصول کے تحت ان ملکوں کے تعلقات گہرے اور مستحکم ہوتے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ترکی نے حالیہ برسوں، خاص طور سے شام کا بحران شروع ہونے کے بعد پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی پالیسی کو عملی طور پر مشرق وسطی کے ملکوں میں مداخلت اور کشیدگی پیدا کرنے جیسی غیر سنجیدہ پالیسی میں تبدیل کر دیا ہے۔ ترک حکام کی مہم جوئی، علاقے میں امن و استحکام کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف مہم جیسے، ان کے نعروں کے بالکل خلاف ہے اور انقرہ کی موجودہ خارجہ پالیسی، علاقے میں کشیدگی اور پورے مشرق وسطی میں حالات ابتر ہونے پر منتج ہوئی ہے۔ حکومت دمشق کی اجازت کے بغیر شام میں ترک فوجیوں کی کارروائی ایک قسم کی جارحیت ہے جو بین الاقوامی قوانین اور اچھی ہمسائیگی نیز پرامن بقائے باہمی کے اصول کے سراسر منافی ہے۔ جبکہ کسی بھی ملک میں فوجی اقدام کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اجازت حاصل کئے بغیر شام میں داعش کے خلاف اتحاد کی تشکیل میں امریکی صدر بارک اوباما کی بدعت اور اس قسم کی جاری بدعتیں، عالمی امن و سلامتی کے نقصان میں ہیں۔ بین الاقوامی قوانین سے ہٹ کر اور دیگر ملکوں کے قومی اقتدار اعلی کے احترام کے بغیر، عمل میں لایا جانے والا کوئی بھی خود پسندانہ اقدام، اس ملک کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے اور داعش کا بہانہ، شام کے قومی اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کئے جانے کا جواز نہیں بن سکتا۔ بہرحال خارجہ پالیسی کے شعبے میں ترکی کے غیر شفاّف اور تبدیل ہوتے ہوئے نیز متضاد رویے اور اسی طرح دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش کے ساتھ اس ملک کے خفیہ و اعلانیہ تعلقات سے، کہ جن کے بارے میں وسیع پیمانے پر خبریں بھی آتی رہی ہیں، داعش کے خلاف مہم کے سلسلے میں ترکی کے دعوؤں سے متعلق گہرے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ چنانچہ ترکی کے غیر قانونی اور مداخلت پسندانہ رویے کے پیش نظر، شام کی حکومت نے جوابی اقدام کو نظرانداز کرتے ہوئے، جو خطاکاروں کے مقابلے میں ہر ملک کا قانونی حق بھی ہوتا ہے، ترکی کے اس غیر روائتی اقدام کے خلاف قانونی طریقے سے عمل کیا ہے اور اس نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں شکایت کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔