مشرق وسطی میں سازباز عمل کا تاریک مستقبل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i245692-مشرق_وسطی_میں_سازباز_عمل_کا_تاریک_مستقبل
مشرق وسطی کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے نکولائی ملادینوف نے کہا ہے کہ سازباز مذاکرات کا کوئی روشن مستقبل نہیں ہے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات سے بحران فلسطین میں اضافہ ہوا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۳۰, ۲۰۱۶ ۱۷:۴۴ Asia/Tehran
  • مشرق وسطی میں سازباز عمل کا تاریک مستقبل

مشرق وسطی کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے نکولائی ملادینوف نے کہا ہے کہ سازباز مذاکرات کا کوئی روشن مستقبل نہیں ہے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات سے بحران فلسطین میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران اسرائیل کے امن مخالف اقدامات اور توسیع پسندی نے تقریبا سات دہائیوں سے جاری فلسطین کے بحران میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ اقوام متحدہ نے سازباز مذاکرات کا مستقبل تاریک ہونے کا اعتراف ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب بحران فلسطین میں اقوام متحدہ اور اس کے سیکریٹری جنرل کی کمزور کارکردگی نے اسرائیلی حکومت کو اپنے جرائم جاری رکھنے کا ضروری موقع فراہم کیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خصوصی مشیر جینیفر ولش نے مسئلہ فلسطین کے سلسلے مین اقوام متحدہ خاص طور پر سلامتی کونسل کی کمزور کارکردگی پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ خاص طور پر سلامتی کونسل کبھی بھی فلسطینیوں کے بارے میں ثابت قدم نہیں رہی۔ بحران فلسطین میں عالمی برادری کے اقدامات پر ایک نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بحران کو حل کرنے میں اقوام متحدہ کی سستی اورکمزوری نیز اس کا صیہونی حکومت کے حامیوں کے سازشی راہ حل پر توجہ مرکوز کرنا علاقے میں صہونی حکومت کے قبضے اور بحران کو طول دینے اور اسے شدید کرنے میں موثر رہا ہے۔ علاقائی اوربین الاقوامی تنظیموں کے تحت اقوام متحدہ کی کوششیں بحران فلسطین کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں دے سکی ہیں۔ اس سلسلے میں مشرق وسطی کی چار فریقی کمیٹی کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ جس کا اقوام متحدہ بھی رکن ہے۔ مشرق وسطی کے امن کا چار فریقی گروپ امریکہ روس یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر مشتمل ہے کہ جو دو ہزار دو میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے امن مذاکرات کے عمل میں ثالثی کے لیے قائم کیا گیا لیکن ابھی تک اسے کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

بین الاقوامی ادارے اور علاقائی تنظیمیں ایک ایسے وقت میں سازباز عمل کے ذریعے بحران فلسطین کو حل کرنے پر زور دے رہی ہیں کہ جب اس عمل کو شروع ہوئے تقریبا پچیس سال کا عرصہ گزر رہا ہے اور اس عرصے کے دوران اس کا بےنتیجہ اور فلسطینیوں کے لیے نقصان دہ ہونا کئی بار ثابت ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ اور فلسطین کے حکام نے خود اعتراف کیا ہے کہ یہ ایک شکست خوردہ عمل ہے۔

مغربی حکومتوں خاص طور پر امریکہ کی جانب سے اسرائیلی حکومت کی بھرپور حمایت اور اقوام متحدہ کے حکام کا اس حکومت کے سلسلے میں کمزور اوردفاعی طرزعمل اپنے جرائم کو تیز کرنے میں اسرائیل کے لیے گرین سگنل کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ نے ویٹو کے غیرمنصفانہ حق کا استعمال کرتے ہوئے کئی بار صیہونی حکومت کے خلاف ٹھوس اور مضبوط قراردادیں منظور نہیں ہونے دیں اور اس حکومت کے خلاف سنجیدہ اقدامات کرنے کے لیے عالمی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔

امریکہ نے اپنی اس کارکردگی سے حتی سلامتی کونسل میں فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی بنا پر صیہونی حکومت کی مذمت بھی نہیں ہونے دی ہے۔ مغربی حکومتوں کے اقدامات نے صیہونی حکومت کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے چند گنے چنے اقدامات کو ناکام بنا دیا ہے جس پر عالمی رائے عامہ نے شدید تنقید کی ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب اسرائیلی جرائم کے خلاف کارروائی میں عالمی برادری کی سستی اور تساہل نے بھی اسرائیل جرائم کے جاری رہنے میں موثر کردار ادا کیا ہے اور اس طرزعمل نے عملی طور پر صیہونی حکومت کے لیے ایک امن کا دائرہ قائم کردیا ہے اور عالمی رائے عامہ نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔