امریکہ ، مسلسل ایرانوفوبیا کے مدار میں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i245845-امریکہ_مسلسل_ایرانوفوبیا_کے_مدار_میں
امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں اپنے ایک بیان میں جو کچھ زیادہ غیرمتوقع بھی نہیں ہے ، ایک بار پھر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ماحول تیار کرنے کا عمل ترک کرنے پر مائل نہیں ہیں-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۳۱, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۵ Asia/Tehran
  • امریکہ ، مسلسل ایرانوفوبیا کے مدار میں

امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں اپنے ایک بیان میں جو کچھ زیادہ غیرمتوقع بھی نہیں ہے ، ایک بار پھر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ماحول تیار کرنے کا عمل ترک کرنے پر مائل نہیں ہیں-

ایک امریکی جنرل کا کل کا بیان اور اسی طرح چند روز قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا علاقے اور سعودی عرب کے دورے کے موقع پر سامنے آنے والا بیان یہی پیغام دیتا ہے اور واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اس مدار سے باہر نہیں نکلا ہے-

مشرق وسطی میں امریکی فوج کے جنرل جوزف ووٹل نے منگل کے دن ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ خلیج فارس میں امریکی اور ایرانی جہازوں کے درمیان پیش آنے والے واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران ، علاقے میں کشیدگی بڑھانے کا عزم رکھتا ہے- امریکی حکام نے ابھی چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں چند ایرانی بوٹس نہایت تیز رفتاری سے نان پروفیشنل اور خطرناک طریقے سے امریکی ڈسٹرائر یو ایس ایس نیٹزے سے قریب ہوئیں -

اس امریکی جنرل نے مزید کہا کہ خلیج فارس کے علاقے میں کوئی بھی ملک وہ کام نہیں کرتا جو ایران کر رہا ہے - کوئی بھی اس شکل میں فوجی جہازوں کی سمت تیز رفتار بوٹس روانہ نہیں کرتا - یہ کام اشتعال انگیز اور خطرناک ہے-

اس سینیئر امریکی کمانڈر نے دعوی کیا کہ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ایران ، ایسے کام کرنے کا عزم رکھتا ہے کہ جس سے علاقے میں عدم استحکام بڑھے -

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایران ہمیشہ سے امریکہ کے مقابلے میں پوری طاقت سے کھڑا ہے اور جارح کا جواب دینے کے لئے کسی سے اجازت نہیں لیتا- امریکی جانتے ہیں کہ جس دور میں انھوں نے ایران کو علاقے میں اپنا چوکیدار بنا رکھا تھا اور امریکہ کی نگاہ میں ایران دوسرے ممالک کو ڈراتا تھا ، ختم ہو چکا ہے- اس کے باوجود اس امریکی جنرل کے بیانات میں کچھ کلیدی نکات موجود ہیں کہ جنھیں امریکی بھی بخوبی جانتے ہیں- پہلا نکتہ یہ ہے کہ ایران کو امریکہ کو پرکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- امریکی حکام نے فراموش نہیں کیا ہوگا کہ گذشتہ جنوری میں ایران کے فوجیوں نے کس طرح امریکہ کی دوگشتی کشتیوں کو کہ جو غیر قانونی طریقے سے ایران کے سرحدی حدود میں داخل ہوگئیں تھیں ، نہایت بہادری سے گرفتار کر کے ان سے لازمی تفتیش انجام دی اور پھرایران کے آبی حدود میں ان کے غلطی سے داخل ہونے کا یقین حاصل ہونے کے بعد انھیں آزاد کردیا تھا-

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے تجزیہ نگار ہارولڈ روڈ نے ابھی کچھ دنوں پہلے ایک بیان میں کہ جو الگماینر ویب سائٹ پر شائع ہوا کہا تھا کہ آج ہماری حالت یہ ہوگئی ہے کہ نہ صرف عالم اسلام میں بلکہ پوری دنیا میں امریکہ کو کاغذ کا شیر سمجھا جانے لگا ہے-

لیکن دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ایران نے کبھی بھی علاقے میں فوجی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ہے بلکہ اس کے برخلاف جو کام ایران کر رہا ہے وہ اپنی اور علاقے کی سیکورٹی کے تحفظ کے لئے ہے اور یہ وہی چیز ہے کہ جو امریکہ کے لئے باعث تشویش ہے -

امریکی حکام کا یہ دعوی کہ وہ علاقے کو پرامن بنانا چاہتے ہیں ، امریکہ کے دوسرے جھوٹ کی طرح ہی ہے- امریکہ علاقے کی سیکورٹی کے لئے فکرمند نہیں ہے بلکہ اس نے القاعدہ اور داعش کی خفیہ اور آشکارا حمایت اور علاقے میں دہشت گردی پھیلا کر زبردست فائدہ اٹھایا ہے جس کی ایک مثال من جملہ سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت، علاقے میں امریکہ کے اسٹریٹیجک مفادات کا ایک حصہ ہے-

جنرل جوزوف ووٹل کے بیانات سے امریکہ کی ایرانوفوبیا پھیلانے کی پالیسی کی ماہیت کی عکاسی ہوتی ہے کہ جو ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام سے خوف زدہ کرنے کی امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور ایران پرعلاقے کی سیکورٹی کو درہم برہم کرنے اور اس کی فوجی دفاعی صلاحیت کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کے تناظر میں انجام پا رہی ہے-