افغان تاجروں سے اشرف غنی کی درخواست
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i245851-افغان_تاجروں_سے_اشرف_غنی_کی_درخواست
پاکستان کی جانب سے قندھار میں اسپین بولدک سرحد ایک بار پھر کھولے جانے کی مخالفت کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس ملک کے تاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کو فضائی راستے سے ہندوستان کو برآمد کریں
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۳۱, ۲۰۱۶ ۱۴:۳۰ Asia/Tehran
  • افغان تاجروں سے اشرف غنی کی درخواست

پاکستان کی جانب سے قندھار میں اسپین بولدک سرحد ایک بار پھر کھولے جانے کی مخالفت کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس ملک کے تاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کو فضائی راستے سے ہندوستان کو برآمد کریں

افغانستان کے ایوان تجارت کے نائب سربراہ خان جان الکوزی نے اعلان کیا ہے کہ محمد اشرف غنی نے پاکستان کی جانب سے اسپین بولدک سرحد بند کئے جانے کے بعد حکم دیا ہے کہ پھلوں اور دیگر زرعی مصنوعات کو فضائی راستے سے ہندوستان کو برآمد کیا جائے-

خان جان الکوزی کے بقول یہ فیصلہ افغانستان کے ایوان صنعت و تجارت کے اراکین اور صدر اشرف غنی کی ملاقات کے دوران کیا گیا اور صدر نے ھوائی اڈوں کو حکم دیا ہے کہ وہ افغان تاجروں کی زرعی محصولات کے نقل و حمل کا کرایہ آدھا کر دیں-

اسلام آباد نے دو ہفتے قبل افغانستان و پاکستان کے درمیان اسپین بولدک سرحد کوکہ جو جنوبی افغانستان میں دونوں ملکوں کے درمیان واحد تجارتی راستہ ہے ، بند کردیا ہے اور اب تک اس سرحد کو کھولنے کے لئے پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات لاحاصل رہے ہیں- اسپین بولدک سرحد سے افغانستان کی زیادہ ترمختلف قسم کی زرعی محصولات برآمد ہوتی ہیں اور اس سرحد کے بند رہنے کے باعث زرعی محصولات برآمد کرنے والوں اور کسانوں کو اب تک سیکڑوں ملین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے- اسی بنا پر افغانستان کے ایوان تجارت نے ابھی حال ہی میں پاکستان کے ساتھ چمن اور اسپین بولدک سرحد کھولنے کے لئے کابل حکومت کے سنجیدہ اقدام کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر کابل حکومت اس سرحد کو کھولے جانے کے لئے اقدام نہیں کرے گی تو وہ مظاہرے کریں گے- افغانستان کی تاجر برادری اور کسانوں کا خیال ہے کہ اس ملک کی حکومت اور پاکستان نے اپنے تجارتی امور، سیاسی اختلاف کی بھینٹ چڑھا دیئے ہیں-

پاکستان کی چمن اور افغانستان کی اسپین بولدک سرحد ، کچھ افغان شہریوں کی جانب سے اسپین بولدک میں پاکستان کے خلاف مظاہرہ کئے جانے اور اس ملک کا پرچم نذر آتش کئے جانے کے بعد بند کردی گئی ہے - حکومت اسلام آباد ، کابل حکومت سے معافی کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ حکومت افغانستان نے اعلان کیا ہے کہ غیرسرکاری اورنامعلوم افراد نے پاکستان کا پرچم نذرآتش کیا ہے اور اسی بنا پرکابل حکومت معافی نہیں مانگے گی-

افغانستان میں سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت پاکستان اس موضوع کو افغان حکومت پرمزید دباؤ ڈالنے کا بہانہ بنائے ہوئے ہے -افغان سیاسی ماہرین کی نظر میں اگر افغان حکومت ،فرضی ڈیورنڈ لائن کو دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سرحد کے طور پرتسلیم کر نے اور افغانستان کی آئندہ سیاسی تبدیلیوں میں طالبان کو سیاسی مراعات دینے کے حکومت پاکستان کے مطالبے پر توجہ دے تو  اسلام آـاد کو تعاون کے لئے مائل کرسکتی ہے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد بہت زیادہ ہے اور افغانستان کی حکومت کا امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستانی حکومت کے تعاون کی جانب سے مایوس ہوجانا دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے اصلی اسباب ہیں- افغانستان کےصدر محمد اشرف غنی نے ابھی حال ہی میں پاکستان کو افغانستان میں سیکورٹی مسائل کا سبب قرار دیا اور طالبان کے خلاف ہمہ گیرجنگ کا حکم دیا ہے-  حکومت کابل کی نظر میں ، طالبان گروہ اب بھی اسلام آباد کے زیرکنٹرول ہے اور پاکستان اسے افغانستان میں اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے وسیلے کے طور پر استعمال کررہا ہے- بہرحال علاقائی حلقوں کی نگاہ میں پاکستان حکومت کی جانب سے قندھار میں اسپین بولدک سرحد کے بند کرنے اور اقتصادی و تجارتی تعاون میں خلل ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود کشیدگی دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی لین دین اور تجارتی امور تک پہنچ چکی ہے کہ جو سرحدی آبادی کے مشتعل ہونے اور ایک وسیع جنگ پر منتج ہوسکتی ہے- جیسا کہ ابھی حال ہی میں طورخم سرحد پر پیش آیا کہ  افغانستان اور پاکستان کے فوجیوں کے درمیان  فائرنگ ہوئی اور اس میں کئی فوجی ہلاک ہوگئے اور اس واقعے نے دونوں ملکوں کے درمیان بھرپور جنگ کے بارے میں تشویش بڑھا دی -