ترکی کے وزیر داخلہ نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i246016-ترکی_کے_وزیر_داخلہ_نے_اپنے_عہدے_سے_استعفی_دے_دیا
ترکی کے وزیر داخلہ نے بدھ کی رات کو اچانک اپنے عہدے سے استعفے دے دیا-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۱, ۲۰۱۶ ۱۵:۵۲ Asia/Tehran
  • ترکی کے وزیر داخلہ نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا

ترکی کے وزیر داخلہ نے بدھ کی رات کو اچانک اپنے عہدے سے استعفے دے دیا-

ترکی کے وزیر اعظم بن علی ییلدیریم نے ترکی کے صدر سے ملاقات کےبعد نامہ نگاروں کے اجتماع میں  وزیر داخلہ "افکان آلا" کے استعفے کا اعلان کیا- ییلدریم نے وزیر داخلہ افکان آلا کے استعفے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی ان کی جگہ وزیر محنت سلیمان سویلو کو بطور جانشین متعین کئے جانے کی بھی خبر دی –

محمد موذن اوغلو بھی جو احمد داؤد اوغلو کی حکومت میں کابینہ میں وزیر صحت تھے، سلیمان سویلو کی جگہ ترکی کے وزیر محنت منصوب کردیئے گئے- ابھی تک ترکی کے وزیر داخلہ کے استعفے کی وجہ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور اسی سبب سے ملک میں جاری حساس صورتحال میں افکان آلا کے استعفے کی وجہ یا وجوہات کے بارے میں قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا ہے- خاص طور پر اس لئے بھی کہ رجب طیب اردوغان ترکی کےصدر کے بہت قریب تھے-

ترکی کے بعض ذرائع ابلاغ نے قیاس آرائیوں میں ترکی کے وزیر داخلہ کے استعفے کی وجہ ان کے زیرنگرانی وزارت کے سیکورٹی سسٹم کی ناکامی ، اس ملک میں حال ہی میں ہونے والے بم دھماکے اور گذشتہ مہینے ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سیکورٹی کے تعلق سے بڑھتی ہوئی تشویش بتائی ہے-

ملک میں جاری بدامنی یا فوجی بغاوت جیسے واقعات کی پیشگوئی میں ناتوانی ، انتخاباتی نظام پر نگرانی میں ناتوانی، کہ جو آخرکار ترکی کے مختلف علاقوں میں گولن تحریک سے وابستہ میئرز کے اقتدار میں آنے کا باعث بنی اور ساتھ ہی شہروں میں امن قائم کرنے میں ناتوانی و کمزوری ، مجموعی طور پر ایسی وجوہات ہیں جن کے بارے میں ترکی کے وزیرداخلہ کے استعفے سے متعلق قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں-

ساتھ ہی بعض آزاد سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مختلف عہدوں پر فائز حکام کے استعفے اور انہیں برطرف کرنے سے متعلق رجب طیب اردوغان کے گذشتہ دنوں کے احکامات، نیز بعض اعلی عہدیداروں کی جانب سے ایسے پروگراموں اور منصوبوں پر عملدرآمد، جو ترکی کے صدر کی مدنظر پالیسی کے مطابق نہیں ہیں، ممکن ہے ترکی کے حکام کی برطرفی کی وجہ ہو-

ترکی کے سابق وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کی برطرفی اور اس سے قبل ترکی کے سابق صدر عبداللہ گل کو کنارے لگانے کی کوشش کہ جو اردوغان کے قریبیوں اور اتحادیوں میں سے تھے، اسی تناظر میں قابل غور ہے- اس فرق کے ساتھ کہ اس وقت افکان آلا کی برطرفی کی وجہ ملک میں جاری بدامنی پر قابو پانے میں ان کی ناکامی، رائے عامہ کے لئے قابل قبول ہوسکتی ہے-

حکومت مخالف پارٹیوں کے اعتراضات خاص طور پر ترکی کی ریپبلیکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کے قتل کی کوشش کے بعد ہونے والے اعتراضات اور اردوغان کے مدنظر سیاسی ، سیکورٹی اور سماجی پروگراموں کو آگے بڑھانے میں افکان آلا کی ناکامی ، ممکن ہے ترکی کے وزیر داخلہ کے استعفے کی دیگر وجوہات ہوں-

ساتھ ہی یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ مرکزی ایشیا اور قفقاز کے ملکوں اور اب ترکی میں سرکاری حکام کے استعفے، ایک طرح سے ان ملکوں کے رہنماؤں کی کلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں-  درحقیقت یہ استعفے، ایک طرح سے ان ملکوں کے معاشروں میں پائے جانے والی آشکارہ و پنہاں ناراضگیوں پر ردعمل ہیں- اور اب یہ روش ترکی کے معاشرے میں بھی حالیہ برسوں کے دوران بظاہر قابل قبول اور قابل توجیہ رویے میں تبدیل ہوگئی ہے-