ہندوستان میں ہڑتال
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i246346-ہندوستان_میں_ہڑتال
ہندوستان میں لیبر یونینوں کے احتجاج اور دھرنوں کے جاری رہنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں اقتصادی اصلاحات کو مسلسل بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے- کیونکہ ملازمین اور لیبروں کی تنخواہوں میں اضافے کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے تاہم نئی دہلی حکومت ، سرکاری اخراجات کم کرنے کے تناظر میں اس کی مخالف ہے اور اسی بنا پر ہندوستان کے مختلف اقتصادی شعبوں میں احتجاج بڑھا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۳, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۷ Asia/Tehran
  • ہندوستان میں ہڑتال

ہندوستان میں لیبر یونینوں کے احتجاج اور دھرنوں کے جاری رہنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں اقتصادی اصلاحات کو مسلسل بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے- کیونکہ ملازمین اور لیبروں کی تنخواہوں میں اضافے کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے تاہم نئی دہلی حکومت ، سرکاری اخراجات کم کرنے کے تناظر میں اس کی مخالف ہے اور اسی بنا پر ہندوستان کے مختلف اقتصادی شعبوں میں احتجاج بڑھا ہے-

 ہندوستان میں لیبر یونینوں کے احتجاج اور دھرنوں کے جاری رہنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں اقتصادی اصلاحات کو مسلسل بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے- کیونکہ ملازمین اور مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافے کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے تاہم نئی دہلی حکومت ، سرکاری اخراجات کم کرنے کے تناظر میں اس کی مخالف ہے اور اسی بنا پر ہندوستان کے مختلف اقتصادی شعبوں میں احتجاج بڑھا ہے-یہاں تک کہ جمعے کو ہندوستان کی دس لیبر یونینوں کے تقریبا دوسوملین مزدوروں اور سرکاری ملازمین نے اپنی اجرت اور تنخواہ میں اضافے کی بابت حکومت کی بے توجہی کے خلاف ہڑتال کی- حکومت ہندوستان نے ملک میں کسی بھی طرح کی بدامنی کا مقابلہ کرنے کے لئے سخت سیکورٹی انتظامات کئے ہیں- ہندوستان کی بہت سی لیبر یونینوں کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں حکومت کی تجویز کردہ تنخواہوں کی نسبت دوگنا اضافہ ہونا چاہئے- حکومت کے پروگرام کے مطابق مزدوروں کی تنخواہیں نو ہزار  ایک سو روپیے سے تیرہ ہزارپانچ سواٹھانوے روپیے یا کم سے کم ایک سو چھتیس ڈآلر سے دوسوچارڈالر ہونی چاہئے- ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی حکومت  کا ایک پروگرام اقتصادی اصلاحات پرعمل درآمد ہے اور نئی دہلی کا خیال ہے کہ مزدوروں کی تنخواہوں میں اقتصادی اصلاحات کے مطابق اضافہ ہونا چاہئے جسے لیبر یونینیں مسترد کررہی ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس منصوبے سے لیبر روز بروز مزید غریب سے غریب تر ہوتے جائیں گے-

ہندوستانی مزدوروں کی ہڑتال ، وزیرخزانہ ارون جیٹلی اور لیبریونینوں کے درمیان تنخواہوں میں اضافے کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد شروع ہوئی ہے-

ہندوستان کی لیبریونینوں کے لئے تشویش کی ایک بات مودی حکومت کی نجکاری کی پالیسی ہے کہ جس سے کام کے مواقع خطرے میں پڑجائیں گے اور ہزاروں محنت کش بے روزگار ہوجائیں گے-

ہندوستان کی لیبر یونینوں کا خیال ہے کہ حکومت کو تمام محنت کشوں کے لئے سماجی سیکورٹی اور میڈیکل انشورنس کی ضمانت دینی چاہئے اور ان کی اوسط تنخواہوں میں دوگنا اضافہ ہونا چاہئے- ہندوستان میں بی جے پی حکومت معیشت کو بہتر بنانے کے لئے تجارتی و اقتصادی اصلاحات کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن عملی طور پر وہ اس سلسلے میں توقعات پرپوری نہیں اترسکی - ہندوستان کی لیبریونینیں اور اپوزیشن جماعتیں ، خردہ بازار میں غیرملکی سرمایہ کاری کی بھی مخالف ہیں اور ان کا خیال ہے کہ کثیرالقومی کمپنیاں ، ہندوستان کے سماجی تانے بانے اور معیشت کو تباہ کردیں گی اور تجارت ، نقل و حمل ، زراعت ، اور خردہ بازار کی دوسری سرگرمیوں پرالٹے اثرات مرتب کریں گی-

خردہ بازار اورمزدوروں کے ساتھ ہی ، دسیوں ہزار ہندوستانی کسانوں نے بھی ابھی حال میں صنعت و انفراسٹیکچر کے لئے زرعی زمینیں مختص کئے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے تھے جس کے دوران ایک کسان کی موت ہوگئی تھی-

ہندوستان کی ریاست آسام کے کسانوں نے بھی زرعی زمینوں کی مالکیت تفویض کئے جانے کے نئی دہلی حکومت کے منصوبے کی مخالفت میں مظاہرے کئے تھے کہ جس کے دوران ایک کسان نے سب کے سامنے خود کو آگ لگا لی تھی- 

بہرحال ہندوستان میں ایک سب سے بڑا اقتصادی مسئلہ غربت ہے- آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق اس ملک کے پچیس فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں کہ جن کی حالت حالیہ برسوں میں غذائی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے اور اب اقتصادی اصلاحات پر عمل درآمد کے باعث ، مزید خراب ہوئی ہے اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ ہندوستان اپنے فوجی اور میزائلی پروگراموں کے لئے بڑا بجٹ مختص کرکے عالمی سطح پر پوری طرح مختلف شبیہ پیش کررہی ہے-