ہندوستان اور ویتنام کے درمیان تعاون میں فروغ
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ ویتنام کے دوران دونوں ملکوں نے تعاون میں فروغ کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اقتصادی، دفاعی اور فوجی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہندوستان اور ویتنام کے سفارتی تعلقات انیس سو بہتر میں شروع ہوئے اور ان میں دو ہزار سات میں زیادہ فروغ آیا۔
ہندوستان مشرق پر توجہ کی اپنی پالیسی کی بنیاد پر ویتنام کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے کر جنوب مشرقی ایشیا میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھانا چاہتا ہے۔ ہندوستان اور ویتنام کے تعلقات سیاست، اقتصاد، سیکورٹی اور دفاع کی محور اور بنیاد پر استوار ہیں۔ ویتنام جنوبی مشرقی ایشیا کےعلاقے اور آسیان تنظیم کا ایک کمزور ملک ہے۔ ویتنام نے کئی بار اپنی اقتصادی مشکلات و مسائل حل اور اپنے ترقیاتی پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد دینے کے سلسلے میں اس تنظیم کے اہم ملکوں کی بےتوجہی پر تنقید کی ہے۔ ویتنام، لاؤس، فلپائن اور میانمار جیسے آسیان تنظیم کے کمزور رکن ملک اپنی اقتصادی مشکلات کو دور کرنے اور غیرملکی سرمایہ کاری کا حاصل کرنے کے لیے ہندوستان، جاپان، جنوبی کوریا اور چین جیسے اس تنظیم کے اہم ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دیتے ہیں۔
ہندوستان بھی مذکورہ ممالک کے ساتھ رقابت میں ویتنام کی منڈی کے اہم حصے کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ویتنام اور ہندوستان کے درمیان تجارتی لین دین کی شرح رواں کے اختتام تک آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ یہ شرح دو ہزار دس میں تقریبا تین ارب چالیس کروڑ ڈالر تھی۔ دونوں ممالک اپنے تجارتی لین دین کی شرح دو ہزار سترہ کے اختتام تک دس ارب ڈالر اور دو ہزار بیس تک پندرہ ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے ویتنام میں کہا ہے کہ نئی دہلی ویتنام کو پچاس کروڑ ڈالر کا قرضہ دے گا۔ ہندوستان نے اس سے قبل کشتیاں اور بحری جہاز خریدنے کے لیے دو ہزار دس میں ویتنام کو دس کروڑ ڈالر کا قرضہ دیا تھا۔ ہندوستان ویتنام میں توانائی اور تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں تعاون کرے گا۔ ویتنام نے حال ہی میں چین کی طرف سے اظہار تشویش کے باوجود جنوبی بحیرہ چین میں تیل کے دو بلاکوں کو ہندوستان کو کرائے پر دینے کے معاہدے میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ ہندوستان اسی طرح ویتنام کی دعوت پر جنوبی بحیرہ چین کے پانچ بلاکوں میں تیل کی تلاش کا کام کرنا چاہتا ہے البتہ چین نے اس کے نتائج کے بارے میں ہندوستان کو خبردار کیا ہے۔
اگرچہ ہندوستان یہ دعوی کرتا ہے کہ ویتنام کے ساتھ تعاون میں اس کے مدنظر اقتصادی اور توانائی کے مقاصد ہیں لیکن جنوبی بحیرہ چین میں چین کے ساتھ ویتنام کے اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے ویتنام کے تیل کی تلاش کے پروگرام میں شرکت کے عنوان سے اس علاقے میں ہندوستانی کمپنیوں کی موجودگی اہم اور قابل توجہ ہے۔ چین کے ویتنام کے ساتھ جنوبی بحیرہ چین کے توانائی سے مالا مال علاقوں کی ملکیت کے بارے میں اختلافات ہیں۔ اس بنا پر ویتنام بیجنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی دہلی کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
ویتنام کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات اقتصادی شعبے کے علاوہ فوجی شعبے میں بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان ویتنام کو چین کے مقابلے میں مسلح کرنا چاہتا ہے۔ چین نے بھی جنوبی بحیرہ چین میں ویتنام کے ساتھ اپنے اختلافات کے پیش نظر ہندوستان کی جانب سے ویتنام کو جدید ترین براہموس میزائلوں کی فروخت کی مخالفت کی ہے۔