امریکی وفد کا پراسرار دورہ عراق
عراق کے الاتجاہ ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ عراق میں نئے امریکی سفیر کی تقرری سے قبل اس ملک کے ایک وفد کا بغداد دورہ مبھم و مشکوک ہے-
عراق کے الاتجاہ ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ عراق میں نئے امریکی سفیر کی تقرری سےچند دن قبل اس ملک کے ایک وفد کا بغداد دورہ مبھم و مشکوک ہے-
عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانگریس کی مسلح افواج کی کمیٹی کے اراکین پر مشتمل امریکی وفد نے سنیچر کی شام بغداد میں وزیر اعظم حیدرالعبادی سے ملاقات اور گفتگو کی - اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے داعش دہشت گرد گروہ کے قبضے سے شہر موصل کو آزاد کرانے کے لئے تربیت ،ہتھیاروں کی فراہمی نیز فوجی آمادگی کے بارے میں گفتگو کی -
بغداد میں امریکی سفیر اسٹوارٹ جونز کی ذمہ داری ختم ہونے کے بعد ڈگلس آلن سلمن کو ان کی جگہ پر سفیر مقرر کیا گیا ہے عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم جعفری نے گذشتہ ہفتے سنیچر کو اسٹوارٹ جونز کی مدت ملازمت کے اختتام کے موقع پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا کے تمام ممالک کے تعاون کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے امریکہ کو عراق کے ساتھ تعمیری تعاون کی دعوت دی -
امریکی وفد کا دورہ بغداد اس وجہ سے مبھم و پراسرار بتایا جا رہا ہے کہ موصل کو آزاد کرانے کے آپریشن کو مختلف طرح کے اگر مگر کا سامنا ہے- دہشت گردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے کردار پر اعتراضات ہو رہے ہیں- الحشد الشعبی کا عراق میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار رہا ہے- عراق کے مختلف علاقوں اور فلوجہ میں داعش کے خلاف جنگ میں موثر و مفید فورس کی حیثیت سے الحشدالشعبی کی کامیابی کا تجربہ سب کے لئے ثابت ہوچکا ہے-
موصل کو آزاد کرانے کی کارروائیوں میں اس تجربے سے فائدہ اٹھانا ، راہ کشا اور کامیابی کا ضامن ہے اور یہ عراقی عوام کا مطالبہ بھی ہے لیکن عراق کے دشمن اور بعض سیاسی گروہ موصل کو آزاد کرانے کی کارروائی میں رضاکار فورس کے کردار ادا کرنے کے مخالف ہیں- امریکہ ، عراق میں الحشدالشعبی کے جملہ مخالفین میں سے ہے اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر پوری طرح سے اس عوامی اور مقامی فورس پر قبیلہ اور فرقہ پرستی کا الزام لگا رہا ہے- الحشد الشعبی فورس پر ایسے عالم میں الزام لگایا جا رہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعویدار کی حیثیت سے عراق میں داعش کی دراندازی اور موصل کے سقوط میں ناقابل انکار کردار ادا کیا - دوہزار تین میں عراق پرقبضے کے بعد سے امریکہ کی پالیسی کبھی اس ملک کے مفاد میں نہیں رہی - عراق پرقبضے کے بعد امریکی آشیرباد سے داعش کا وجود سامنے آیا - اور عراق کے سیاسی گروہوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی کوشش اور آخرکار داعش مخالف نام نہاد اتحاد کی شکل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پسپائی ، عراق کے سلسلے میں امریکہ کے تمام رویوں کو نمایاں کرتی ہے-
یہ تمام رویے عراق کے سلسلے میں امریکی پالیسی کی خصوصیات کو بیان کرتے ہیں اوراسی کے تناظر میں ابراہیم جعفری نے بغداد میں امریکہ کے سابق سفیر کی مدت کار ختم ہونے پر اس ملک کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق کے ساتھ بھرپور اورسنجیدہ تعاون کی دعوت دی -
امریکہ نے اتحاد کی شکل میں داعش کے خلاف جنگ میں اپنے لئے جو ادھورا کردار رکھا وہ عراق کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر منتج ہوا ہے- داعش کے ٹھکانوں پر امریکی اتحاد کے اندھا دھند اور بلاہدف فضائی حملوں نے عراق کے عام شہریوں کی جان کو بھی خطرے میں ڈالا ہے اور انھیں مالی نقصان بھی پہنچا ہے-
سن دوہزار تین کے بعد عراقی حکومت کے سلسلے میں امریکہ کی فوجی اور سیاسی کارکردگی سے عراقیوں کے مفادات پورے نہیں ہوئے ہیں - امریکہ کے مختلف وفود کا دورہ بغداد اور سفیر کی حیثیت سے اسٹورٹ جونز کی تقرری کا بھی کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلے گاشاید یہی وجہ ہے کہ عراقی وزیر خارجہ کواس موقع پر بھی امریکی کارکردگی کو ہدف تنقید بنا ناپڑا -